برگِ سبز — Page 72
برگ سبز ہوئے تھے تو اس جگہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ بعض ان صحابہ کا ذکر ہو جن کی بکثرت زیارت ہوتی تھی۔یہاں یہ ذکر بھی بے محل نہ ہو گا کہ خاکسار کے والد محترم کی دکان مسجد مبارک کی سیڑھیوں سے چند قدم کے فاصلہ پر اس مرکزی جگہ پر تھی جسے احمد یہ چوک کہا جاتا ہے۔اس طرح وہاں پر سلسلہ کے اکابرین اور نمازیوں کا قریباً ہر وقت ہجوم رہتا تھا۔حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب با قاعدہ وہاں سے مسجد مبارک جاتے ہوئے نظر آتے۔بالکل سامنے حضرت ڈاکٹر غلام غوث صاحب ہوتے تھے۔ان کے مکان کے پہلو سے جوگی نکلتی تھی اس میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب ہوتے تھے۔بالکل پڑوس میں ایک طرف حضرت مرزا مہتاب بیگ صاحب کا درزی خانہ تھا۔حضرت قاضی محمد ظہور الدین اکمل صاحب کی رہائش بھی وہاں پاس ہی تھی۔بالکل نزدیک ہی حضرت مولوی قطب الدین صاحب کا دواخانہ تھا۔غالباً یہی وہ مطب تھا جہاں حضرت مولنا نور الدین پریکٹس کیا کرتے تھے۔حضرت مولوی صاحب کے مکان بھی اس کے پہلو میں تھے۔ہماری دکان کے ساتھ ایک بہت بزرگ انسان حضرت مولوی غلام رسول افغان صاحب کی دکان تھی۔ان کی دودھ دہی کی دکان تھی مگر وہ ہمہ وقت بڑے سائز کا قرآن مجید کھولے ہوئے تلاوت میں مصروف نظر آتے تھے۔بھائی شیر محمد صاحب ، حضرت احمد دین صاحب ڈنگوی" بھی وہاں پاس پاس ہی تھے۔مولوی محمد یامین صاحب تاجر کتب کی دکان بھی اسی چوک میں تھی۔حضرت پیر منظور احمد صاحب موجد قاعدہ میسر نالقرآن بھی اسی جگہ رہتے تھے۔حضرت پیر سراج الحق صاحب اور حضرت حافظ روشن علی صاحب کی زیارت تو خاکسار کو یاد نہیں مگر ان کی رہائش بھی تو اسی چوک میں تھی۔خاکسار جس دکان کا ذکر کر رہا ہے، یہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی شہر والی رہائش گاہ کا ایک حصہ 72