برگِ سبز

by Other Authors

Page 24 of 303

برگِ سبز — Page 24

برگ سبز کہ بعض دفعہ میں نہیں لاکھ تک مبلغوں کی تعداد پہنچا کر میں سو جایا کرتا ہوں۔میرے اس وقت کے خیالات کو اگر ریکارڈ کیا جائے تو شاید دنیا یہ خیال کرے کہ سب سے بڑا شیخ چلی میں ہوں۔مگر مجھے اپنے خیالات اور اندازوں میں اتنا مزا آتا ہے کہ سارے دن کی کوفت دور ہو جاتی ہے۔۔۔اپنے ان مزے کی گھڑیوں میں میں نے ہیں ہیں لاکھ مبلغوں کو تجویز کیا ہے۔دنیا کے نزدیک میرے یہ خیالات ایک واہمہ سے بڑھ کر کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔مگر اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ جو چیز ایک دفعہ پیدا ہو جائے وہ مرتی نہیں جب تک اپنے مقصد کو پورا نہ کرے۔لوگ بے شک شیخ چلی کہہ لیں مگر میں جانتا ہوں کہ میرے ان خیالات کا خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ فضا میں ریکارڈ ہوتا چلا جارہا ہے۔اور وہ دن دور نہیں جب اللہ تعالیٰ میرے ان خیالات کو عملی رنگ میں پورا کرنا شروع کر دے گا۔آج نہیں تو آج سے ساٹھ یا سو سال کے بعد اگر خدا تعالیٰ کا کوئی بندہ ایسا ہوا جو میرے ان ریکارڈوں کو پڑھ سکا اور اسے توفیق ہوئی تو وہ ایک لاکھ مبلغ تیار کر دے گا ، پھر اللہ تعالیٰ کسی اور بندہ کو کھڑا کر دے گا جو مبلغوں کو دو لاکھ تک پہنچا دے گا۔پھر کوئی اور بندہ کھڑا ہو جائے گا جو میرے اس ریکارڈ کو دیکھ کر مبلغوں کو تین لاکھ تک پہنچا دے گا۔اس طرح قدم بہ قدم اللہ تعالیٰ وہ وقت بھی لے آئے گا جب ساری دنیا میں ہمارے 20 لاکھ مبلغ کام کر رہے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کے حضور ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے اس سے پہلے کسی چیز کے متعلق امید رکھنا بے وقوفی ہوتی ہے۔میرے یہ خیال بھی اب ریکارڈ میں محفوظ ہو چکے ہیں اور زمانے سے مٹ نہیں سکتے۔آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو پرسوں یہ خیالات عملی 24