برگِ سبز — Page 25
شکل اختیار کرنے والے ہیں۔“ برگ سبز (الفضل 28 اگست 1959ء) جماعت میں صاحب حیثیت اور دنیوی طور پر معزز سمجھے جانے والے افراد کونصیحت و انتباہ کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں: وو وہ اقوام جن کو اللہ تعالیٰ نے سیاسی عزت دی ہے اگر اپنے فرائض کو ادا کریں تو ان کی عزت قائم رہ سکتی ہے۔اگر انکے اندر قربانی کا مادہ پیدا نہ ہوا تو ان کی عزت چھن جائے گی۔اس وقت دنیا میں ایسے انقلابات اور تغیرات ہونے والے ہیں کہ اگر ان قوموں نے جو اس وقت سیاسی طور پر معزز سمجھی جاتی ہیں اپنا حصہ قربانیوں کا ادا نہ کیا تو وہ گر جائیں گی۔اور وہ عزت پا جائیں گی جو اس وقت سیاسی طور پر معزز نہیں سمجھی جاتیں۔قرآن مجید میں ایسی باتیں موجود ہیں جن میں پایا جاتا ہے کہ آخری زمانہ میں عزت والی قومیں گر جائیں گی اور ادنی سمجھی جانے والی معزز ہو جائیں گی۔اسلام نے کسی قوم کو ذلیل قرار نہیں دیا اور قومی فرق کو تسلیم نہیں کیا۔(اللہ تعالیٰ ) کے نزدیک ہر شخص اگر خدمت دین کرے تو وہ معزز اور سردار ہے مگر ان قوموں کیلئے جو سیاسی طور پر معزز سمجھی جاتی ہیں بہت شرم کی بات ہوگی۔اگر وہ قربانیوں میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے گر جائیں اور سیاسی طور پر ادنی سمجھی جانے والی قو میں آگے آجائیں۔پس میں تحریک کرتا ہوں کہ سیاسی طور پر معزز سمجھی جانے والی اقوام کے لوگ اپنی اولادوں کو دین کیلئے وقف کریں۔وقت بہت تھوڑا ہے اور کام بہت زیادہ ہے۔خدا تعالیٰ اب زیادہ انتظار نہیں کر سکتا اگر ہم سستی سے کام لیں گے تو خدا 25