برگِ سبز

by Other Authors

Page 23 of 303

برگِ سبز — Page 23

ترقی نہیں ہو سکتی۔برگ سبز ( میں ) اللہ تعالیٰ پر اس تحریک کی تکمیل کو چھوڑتا ہوں کہ یہ کام اسی کا ہے اور میں صرف ایک حقیر خادم ہوں۔لفظ میرے ہیں مگر حکم اس کا ہے۔وہ غیر محدود خزانوں والا ہے۔اسے میرے دل کی تڑپ کا علم ہے اور اس کام کی اہمیت کو جو ہمارے سپرد ہے، وہ ہم سے بہتر سمجھتا ہے۔پس میں اسی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ جماعت کے سینوں کو کھولے اور ان کے دلوں کے زنگ کو دور کرے تا وہ ایک مخلص اور باوفا عاشق کی طرح اس کے دین کی خدمت کیلئے آگے بڑھیں اور دیوانہ وار اپنی بڑی اور چھوٹی قربانی کو خدا تعالیٰ کے قدموں میں لا ڈالیں اور اپنے ایمان کا کھلا ثبوت دے کر دشمن کو شرمندہ کریں اور اس کی ہنسی کو رونے سے بدل دیں اور نہ صرف یہ مالی قربانی کریں بلکہ دوسرے مطالبات جو جانی اور وقتی قربانیوں سے تعلق رکھتے ہیں ان میں دل کھول کر حصہ لیں۔“ (الفضل 19 نومبر 1935ء) مقصد کی اہمیت، کام کی وسعت اور واقفین کی بکثرت ضرورت کے متعلق نہایت یقین و وثوق کے ساتھ وجدانی حالت و کیفیت کے ساتھ حضرت صاحب فرماتے ہیں: حقیقت یہ ہے کہ ساری دنیا میں صحیح طور پر تبلیغ کرنے کیلئے ہمیں لاکھوں مبلغوں اور کروڑوں روپیہ کی ضرورت ہے۔جب میں رات کو اپنے بستر پر لیٹتا ہوں تو بسا اوقات سارے جہان میں تبلیغ کو وسیع کرنے کیلئے مختلف رنگوں میں اندازے لگاتا ہوں۔کبھی کہتا ہوں ہمیں اتنے مبلغ چاہئیں اور کبھی کہتا ہوں کہ اتنے مبلغوں سے کام نہیں بن سکتا۔اس سے بھی زیادہ مبلغ چاہئیں۔یہاں تک 23