برگِ سبز — Page 181
برگ سبز جب میں بیس سال کا ہوا تو والد صاحب حضرت صاحب سے اجازت لے کر مکہ کو تشریف لے گئے۔حضرت صاحب نے ایک دعائیہ خط دیا کہ میری طرف سے۔۔۔حرف حرف پڑھ لینا۔۔۔بہت مرید بھی ساتھ گئے تھے جن میں شہزادہ عبدالمجید صاحب بھی تھے۔جن کی وفات ایران میں ہوئی۔۔۔ہم ہیں بائیس خدام پیچھے کھڑے تھے۔والد صاحب نے فرمایا میں یہ خط بلند آواز سے پڑھتا ہوں۔۔۔میرے والد صاحب واپس آکر 13 دن زندہ رہے اور 19 ربیع الاول 1303 ھ کو وفات پاگئے۔۔۔میرے والد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ معاملہ کی اچھائی اور صفائی آدھا دین ہے۔یہ ٹھیک بات ہے کیونکہ انسان پر دو حق ہیں حق اللہ اور حق العباد۔اس لئے جو بندوں کا حق اچھی طرح ادا کرتا ہے وہ آدھا دین بجالاتا ہے۔“ اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت پیر صاحب خدا تعالیٰ کی منشاء کے مطابق حقوق العباد کی ادائیگی کو آدھادین قرار دیتے تھے۔حضرت پیر صاحب اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو ایک بہت بڑا خزانہ قرار دیتے تھے جیسا کہ اس بات سے ظاہر و عیاں ہے: میں نے اپنے والد صاحب سے سنا ہے وہ فرماتے تھے کہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موت کے بعد کوئی بڑا بھاری خزانہ اور بہت بڑی دولت رکھی ہے جس پر موت جیسا سخت ڈراؤنا پہریدار مقرر کیا ہے۔“ اولاد کے حقوق کی ادائیگی اور خدمت خلق کے متعلق میرے والد صاحب 181