برگِ سبز — Page 182
برگ سبز فرما یا کرتے تھے کہ کوئی شخص غریب ہوا اور اس کے پاس اتنا کپڑا نہ ہو کہ سردی کی رات میں اپنے بچہ کو پورا ڈھک سکے۔جب اس کے سر پر کپڑا ڈھکے تو بچہ کے پیر ننگے ہو جائیں۔پھر اس کو خیال آئے کہ اس کے پیروں کو سردی لگتی ہوگی۔وہ کپڑے کو پیروں کی طرف سر کا وے۔تھوڑی دیر بعد اس کو سردی کا فکر ہو وہ سر کو ڈھک دے۔اس طرح وہ رات کو چند مرتبہ کرے تو اس کا اتنا اجر و ثواب ہے کہ گویا اس نے ساری رات عبادت کی۔اُس سے ان کا یہ مطلب تھا کہ عیال کی خدمت اور خبر گیری کا بڑا ثواب ہے۔“ حضرت پیر صاحب کے توکل اور یقین کے متعلق درج ذیل واقعہ بہت ایمان افروز ہے: ”ہمارے گھر میں خرچ نہ تھا۔میرے والد صاحب نے میری والدہ صاحبہ سے پوچھا آتا ہے؟ کہا نہیں۔۔۔دال ہے؟ جواب نفی میں ملا ایندھن ہے؟ وہی جواب تھا۔جیب میں ہاتھ ڈالا دوروپے تھے۔فرمانے لگے اس میں تو اتنی چیزیں پوری نہیں ہوسکتیں۔میں ان دو روپوں کی تجارت کرتا ہوں۔وہ دو روپے کسی غریب کو دے کر نماز پڑھنے چلے گئے۔رستہ میں اللہ تعالیٰ نے دس روپے بھیج دیئے۔فرمایا لو میں تجارت کر آیا ہوں۔اب سب چیزیں منگوا لیں۔اللہ کی راہ میں دینے سے مال گھٹتا نہیں بلکہ بڑھتا ہے اور آخر میں ثواب جدا ملتا ہے۔“ حضرت پیر صوفی احمد جان اپنی فطری سعادت کی وجہ سے رضا الہی کے حصول اور تعلق باللہ کے سلسلہ میں کوشاں رہتے تھے۔آپ کے صاحبزادے تحریر فرماتے ہیں: طلب خدا کا شوق سب شوقوں سے افضل اور اعلیٰ ہے۔“ 182