برگِ سبز

by Other Authors

Page 138 of 303

برگِ سبز — Page 138

برگ سبز حضرت مفتی صاحب لاہور میں بسلسلہ ملازمت مقیم تھے کئی دفعہ زندگی وقف کر کے قادیان آنے کا ارادہ کیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ابتدا منع فرما یا مگر بعد میں اجازت ملنے پر حضرت مفتی صاحب قادیان میں رہائش پذیر ہو گئے۔اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اور حضرت مفتی صاحب کے عاشقانہ رنگ کا اظہار کرتے ہوئے حضرت قاضی ظہور الدین اکمل صاحب فرماتے ہیں: " معزز ناظرین! یہ وہ وقت ہے جب ہمارا صادق عثمانی دوست (حضرت مفتی صاحب ) اپنے محبوب کے عشق میں سرگرداں تھا۔وہ اس پروانہ کی مانند تھا، جو شمع کے گرد بڑی بے تابی سے اِدھر اُدھر پھرتا اور آخر اس میں گر کر اپنی ہستی کو مٹا دیتا ہے اور وہ اس بچہ کی مانند تھا جو بدر کامل کو دیکھ کر ہمک ہمک کر او پر اٹھتا اور اس تک پہنچنے میں مقدور بھر کوشش کرتا ہے۔یہ ابتدائی زمانہ بھی کیا ہی لذت کا زمانہ تھا جب ہمارا کوئی دوست موقع پا تا تو دیوانہ وار اٹھ دوڑتا۔نہ رات دیکھتا نہ دن۔آخر عشق صادق نے اپنا رنگ دکھایا اور وہ قطرہ سمندر میں آکر مل گیا یا یوں کہئے کہ جس لڑی کا موتی تھا، اس میں پرو دیا گیا۔“ ذکر حبیب“ پڑھتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے حضرت مفتی صاحب کسی کو یہ کہہ رہے ہوں کہ ؎ بس تنگ نہ کر ناصح ناداں مجھے اتنا یا چل کے دکھا دے دہن ایسا کمر ایسی 138 روزنامه الفضل ربوہ 28 جولا ئی 1996ء)