برگِ سبز — Page 137
برگ سبز حضرت مفتی صاحب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ملفوظات لکھ لیا کرتے تھے۔اس میں آپ کے شوق کے علاوہ ایک اور محرک بھی تھا جس کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: پہلی دفعہ جب 1890 ء کے اخیر میں قادیان آیا اور بیعت کر کے واپس اپنی ملازمت پر جموں پہنچا تو حضرت استاذی المکرم مولوی حکیم نور الدین صاحب خلیفہ اسیح الاوّل نے مجھ سے قادیان کے تمام حالات دریافت کئے۔حضرت صاحب کیا کرتے تھے، کتنی دفعہ سیر کو گئے؟ راستہ میں کیا فرما یا وغیرہ؟ حضرت مولانا صاحب کی اس دلچسپی کے باعث مجھے شوق ہوا کہ جب کبھی میں قادیان آتا، تمام حالات لکھ کر حضرت مولوی صاحب اور دوسروں کو بھیجتا رہتا۔اس طرح مجھے ایسے حالات لکھتے رہنے کی عادت ہوگئی اور بہت سی پرانی نوٹ 66 بکیں اب تک میرے پاس موجود ہیں۔۔۔“ اسی طرح آپ لکھتے ہیں:۔۔محمد افضل خان صاحب ایڈیٹر اخبار البدر کی وفات پر جب اُس اخبار کی ایڈیٹری کا کام عاجز راقم کے سپر دہوا۔اور ہائی سکول کی مدرسی سے فراغت حاصل کر کے عاجز صرف اس کام پر لگ گیا تو مجھے وقت کا زیادہ حصہ حضرت صاحب۔۔۔کی صحبت میں بیٹھنے اور آپ کے کلام کو لکھنے کیلئے ملنے لگا اور ان حالات کو میں 66 اپنے اخبار میں ڈائری اور القول الطیب کے عنوان کے ماتحت درج کرتا رہا۔۔؟ حضرت مفتی صاحب کی اس یادگار خدمت پر حضرت مولانا نورالدین نے فرمایا: آپ نے ایسا خط لکھا ہے کہ گویا مجھے حضرت صاحب کی مجلس میں بٹھا دیا ہے۔“ 137