برگِ سبز — Page 48
برگ سبز خط و کتابت۔پرانی یادیں ہمارے بچپن کی بعض ایسی باتیں جواب آہستہ آہستہ ختم ہوتی جارہی ہیں ان میں سے ایک خطوں کا باہم تبادلہ بھی تھا۔رشتہ داروں اور قریبیوں میں ایک دوسرے کو اپنی خیریت کی اطلاع دینا اور ان کی خیریت معلوم کرنے کا عام طریق تھا اور اگر اس معاملہ میں کوئی سستی سے کام لیتا تو اس سے شکوہ بھی کیا جاتا تھا۔خط و کتابت کے لئے عام ذریعہ پوسٹ کارڈ اور لفافہ ہوتا تھا۔ہم نے تین پیسے کا کارڈ اور چھ پیسے کا لفافہ دیکھا ہوا ہے بلکہ اسے استعمال بھی کیا ہوا ہے۔لفافے اور کارڈ کے ذکر کے ساتھ قلم دوات کا ذکر بھی لازمی ہے۔کارڈ یا خط لکھنے کے لئے قلم اور دوات استعمال ہوتی تھی۔بزرگوں کی تحریریں تو قلم اور دوات سے ہی لکھی ہوتی تھیں بلکہ بعض بزرگ جو تیزی سے اور زیادہ لکھتے تھے ان کے متعلق تو یہ بھی مشہور تھا کہ انہوں نے ایک سے زیادہ دوات (سیاہی کی شیشی یا برتن ) رکھی ہوتی تھی۔قلم آہستہ آہستہ ہولڈر کی شکل اختیار کر گئی یعنی قلم میں لوہے کانب استعمال ہونے لگا مگر پرانے بزرگ یہی کہتے رہے کہ لکھنے کا مزہ اور خوبصورتی قلم کے ساتھ ہی تھی۔ہولڈر کی لکھائی میں وہ خوبصورتی اور بات کہاں۔ہولڈر کے بعد فونٹین پین کا زمانہ آ گیا۔ہولڈر کا قد چھوٹا ہو گیا اور 48