برگِ سبز

by Other Authors

Page 49 of 303

برگِ سبز — Page 49

برگ سبز سیاہی کے لئے الگ دوات کی ضرورت نہ رہی بلکہ ہولڈر میں ہی سیاہی بھر لی جاتی تھی۔اس پین نے بھی ترقی کی کئی منزلیں دیکھیں۔شروع میں اس میں سیاہی کے لئے ایک ٹیوب ہوتی تھی جس میں سیاہی بھرنے کے لئے ایک لیور سا لگا ہوتا تھا۔بعد میں ٹیوب کے بغیر پین بھی دستیاب ہو گئے۔تاہم ابتدائی طور پر یہی مشہور تھا کہ ہولڈر سے لکھائی بہتر ہوتی ہے اور پین میں وہ بات نہیں بنتی۔مجھے یاد ہے ہمارے ایک بزرگ محترم کرنل محمد رمضان صاحب کہا کرتے تھے کہ میں بال پوائنٹ استعمال ہی نہیں کرتا۔اس سے لکھائی صاف نہیں ہوتی۔اس بات سے ایک اور پرانی بات بھی یاد آ گئی۔ہمارے محلہ میں ایک ضعیفہ رہتی تھیں وہ معمر اور نا بینا تھیں۔میں ان کے خط لکھا کرتا تھا اور اس مقصد کے لئے کاغذ ، ہولڈر وغیرہ ساتھ لیکر ان کے ہاں جایا کرتا تھا۔یہ زمانہ میری چھٹی ، ساتویں کلاس کا ہوگا۔میں ہمیشہ ہی یہ سوچتا ہوں کہ اس زمانہ میں میری تحریر کیسی ہوگی اور یہ بھی کہ میرے لکھے ہوئے خطوط مکتوب الیہ تک پہنچ بھی جاتے ہونگے تو وہ پڑھے بھی جا سکتے ہوں گے یا نہیں! وہ معمر خاتون میری اس بری بھلی خدمت کے لئے مجھے بہت دعائیں دیا کرتی تھیں۔اس خاندان کے کئی افراد کے نام مجھے یاد ہیں۔اس خاتون کا ایک پوتا جرمنی میں مجھے ملا بھی تھا تا ہم میں عمداً ان کے نام نہیں لکھ رہا۔پرانی یادوں کے سلسلے میں یہ لکھنا بھی بے محل اور غیر مناسب نہ ہوگا کہ بعد میں مجھے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب اور حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اور حضرت مولا نا عبدالمالک خان صاحب کے خطوط اور مضامین لکھنے کا بھی اتفاق ہوا۔ان مواقع کو یہ خاکسار اپنی خوش قسمتی اور سعادت سمجھتا ہے اور ان بزرگوں سے بہت سی باتیں سیکھنے کوملتی ایک بات جس کا خط و کتابت سے تو بظاہر کوئی تعلق نہیں ہے لیکن میں نے ہمیشہ اس سے 49