برگِ سبز — Page 43
برگ سبز اپنے وعظوں اور درسوں میں جماعت کی مخالفت شروع کر دیتے تھے اور اپنے جھوٹے الزامات دہراتے رہتے تھے۔خاکسار اپنے احباب اور عام لوگوں کی حقیقت حال سمجھانے کیلئے اپنی مسجد میں ان کے سوالوں کا جواب بیان کر دیا کرتا تھا۔مولوی صاحب نے مخالفت کو آگے بڑھانے کیلئے ایک پمفلٹ کی شہر میں خوب اشاعت کی۔ہماری طرف سے اظہار الحق کے نام سے ایک پمفلٹ شائع کیا گیا جس میں ان کے اعتراضات کا جواب دیا گیا تھا۔اس کے بعد حسب ضرورت ایک اور ٹریکٹ اظہار الحق نمبر 2 بھی شائع کیا گیا۔مولوی صاحب کو یہ بات کچھ عجیب لگی اس طرح برابر جواب ملنے کی غالباً وہ توقع بھی نہیں کر سکتے تھے۔مولوی صاحب نے معزز لوگوں کا ایک وفد تیار کیا اور ضلع کے ڈپٹی کمشنر صاحب کے سامنے احتجاج کرنے کیلئے گئے۔ڈپٹی کمشنر صاحب نے ہمیں بھی یاد کیا۔خاکسار اور وہاں کے اس وقت کے امیر مولوی عبد الکریم صاحب لون ڈی سی صاحب کو ملنے گئے۔وہاں ان کے میز پر اظہارالحق ٹریکٹ پڑے تھے اور اس میں کئی جگہ سرخ قلم سے نشان بھی لگے ہوئے تھے جو مولوی صاحب نے افسر مذکور کو دکھانے کیلئے نمایاں کئے ہوئے تھے۔خاکسار نے اس ٹریکٹ میں یہ بھی لکھا تھا کہ ہر وہ شخص جو آنحضرت سی شما اینم کی تشریف آوری کے بعد بھی حضرت مسیح علیہ السلام کی آمد کا منتظر اور معتقد ہے وہ ختم نبوت کا منکر ہے۔مولوی صاحب اس پر بہت برہم تھے کہ ہمیں منکر ختم نبوت کہا گیا۔اس پر تھوڑی دیر بحث ہوئی مگر ڈی سی صاحب اور ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک ضلعی پولیس آفیسر نے کہا کہ ہمیں مذہبی معاملات کا زیادہ علم نہیں ہے۔ہمیں تو قانون کی پابندی سے غرض ہے اور یہ بھی کہ علاقے میں امن و امان رہنا چاہئے۔اسلئے آپ کے درس اور وعظ کی آواز مسجد سے باہر نہیں آنی چاہئے۔۔۔مولوی صاحب نے اسے اپنی تو ہین سمجھا۔بہت غصہ اور ناراضگی سے اپنے 43