برگِ سبز

by Other Authors

Page 42 of 303

برگِ سبز — Page 42

برگ سبز ایک مشہور عالم اور مناظر محمد حیات صاحب تھے جو بے ریش تھے اور عام طور پر حیات کھودا‘ کے نام سے جانے جاتے تھے۔وہ اپنا تعارف کراتے ہوئے بڑی ٹھیٹھ پنجابی بولنے لگے۔میں نے ان سے کہا کہ حیدری صاحب کو میں اچھی طرح جانتا ہوں یہ اثنا عشری خیالات کے ہیں۔آپ بھی تو شیعہ ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ نہیں نہیں میں سنی ہوں مگر ختم نبوت کے معاملہ میں ہم ایک ہیں۔وہ اپنی چادر کے کونے میں تشخیز الاذہان کا ایک پرچہ اس طرح باندھ کر لائے ہوئے تھے جیسے چادر کے کونے میں گڑ یا شکر باندھی ہوئی ہو۔وہ اس پرچہ سے یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو کوئی دعویٰ نبوت نہیں کیا تھا۔بعد میں لوگوں نے ان کی طرف یہ عقیدہ غلط طور سے منسوب کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس قسم کے تمام سوالوں اور اعتراضات کا مکمل جواب ”ایک غلطی کا ازالہ میں دے چکے ہیں۔وہی جواب ان کو دیئے گئے۔تاہم حیدری صاحب کی خوشی کی کوئی بات نہ ہو سکی۔خاکسار کو ضلع جہلم میں خدمت کی سعادت حاصل ہوئی۔تاریخ احمدیت میں جہلم کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سفر جہلم، مقدمہ جہلم اور حضرت مولوی برہان الدین صاحب کے اخلاص و محبت کے واقعات کی وجہ سے خاص اہمیت حاصل ہے۔جہلم کے خواجہ صاحبان اور سیٹھی صاحبان میں سے بعض افراد کو میں قادیان کے زمانہ سے جانتا تھا۔سب احباب نے خوب تعاون بلکہ احترام کا سلوک کیا اور اس طرح وہاں کا قیام بھی یادگار بن گیا۔یہاں صرف ایک بات کا ذکر کر دیتا ہوں۔یہ بتانے کی تو شاید ضرورت نہیں کہ سفر جہلم میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف مخلوق کا معجزانہ رجوع ہوا تھا۔اسی وجہ سے وہاں مخالفت بھی بہت تھی۔شہر کی ایک مرکزی جگہ پر ایک خوبصورت بڑی مسجد تھی۔وہاں کے مولوی صاحب جماعت کی مخالفت میں نمایاں ہونے کی کوشش میں رہتے تھے اور کبھی کبھی 42