برگِ سبز — Page 41
برگ سبز زچ نظر آئے۔حیدری صاحب ایک دفعہ ملے تو بہت خوش نظر آ رہے تھے۔میرے پوچھنے پر کہنے لگے کہ ہجرت کے وقت آنحضرت ملا لیا کہ تم نے حضرت علی کو اپنا قائم مقام بنایا ، ان کو امین سمجھا اور اپنے بستر پر سونے کی سعادت بخشی۔خاکسار نے عرض کیا کہ یہ آپ نے کوئی نئی بات نہیں کی اور حضرت علی کی فضیلت کا میں قائل ہوں۔آپ نے جو فضیلت بیان کی ہے اس سے تو کوئی انکار نہیں ہے مگر قرآن مجید نے جس فضیلت کو قابل ذکر سمجھا وہ حضرت ابوبکر کی سفر ہجرت میں شمولیت تھی۔ان سے کافی مفصل بات ہوئی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہجرت کی مشکلات دیکھ کر تو حضرت ابوبکر رونے لگ گئے تھے۔ان کو یہ بات بھی سمجھانے کی کوشش کی گئی اور خاکسار نے عرض کیا کہ وہاں پر تو حضرت ابوبکر کو ایک بے مثال فضیلت حاصل ہوئی جس میں وہ ہر طرح منفرد تھے کیونکہ قرآن نے تو کہا کہ لا تحزن ان الله معنا غم نہیں کرو خدا تعالیٰ ہم دونوں کے ساتھ ہے۔ایسی معیت کا اور کسی کیلئے قرآن مجید میں ذکر نہیں ہے۔مہاجروں کو ملنے والی قرآنی بشارتوں کا بھی ذکر آیا۔حیدری صاحب کا ذکر کچھ زیادہ ہی ہو گیا ہے تاہم ایک اور دلچسپ بات یاد آ رہی ہے اسے بیان کرنا بھی ضروری ہے۔ایک دفعہ ان کا پیغام آیا کہ میں فلاں وقت ملنے آؤں گا اور میرے ساتھ کوئی اور صاحب بھی ہوں گے۔حسب معمول ان کو عزت و احترام سے بٹھایا گیا۔جو صاحب ان کے ساتھ تھے ان کو دیکھ کر میں فوراً ہی انہیں پہچان گیا مگر وہ تو بالکل بھی نہیں جانتے تھے کہ میں ان کو پہچانتا ہوں۔دراصل یہ صاحب قادیان میں رہ چکے تھے۔ان کو اپنے نام کے ساتھ بعض اور احراری اکابرین کی طرح فاتح قادیان لکھنے کا شوق تھا۔اس وقت وہ دیکھنے میں ایک کھدر پوش سادہ دیہاتی لگ رہے تھے مگر دراصل وہ احراریوں کے 41