برگِ سبز — Page 227
برگ سبز معاد کی طرف ، اس آخری مستقل قیام گاہ کی طرف واپس لے کر آئے گا۔انِّی مَعَ الْأَفْوَاجِ أَتِيْكَ بَغْتَةً - يَأْتِيْكَ نُصْرَتِيْ إِنِّي أَنَا الرَّحْمَنُ ذُو المَجْدِ وَ العُلی پھر آپ کو الہام ہوا وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ اور کہا کہ اے میرے رب ! مجھے نیک طور پر دوبارہ مکہ میں ) داخل کر۔یہ ترجمہ جو ہے چونکہ ) لکھنے والے نے تفسیر صغیر سے لیا ہے اس لئے یہاں لفظ ملکہ کا لکھا گیا ہے۔قرآنی دعا میں نہ صرف یہ کہ مکہ کا ذکر نہیں بلکہ جس مقام کا ذکر ہے وہ کوئی ظاہری مقام نہیں ہے بلکہ وہ ایک مرتبہ کا ذکر ہے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیب ہونا تھا۔لیکن اس کی ذیل میں ظلی طور پر مکہ کا ذکر شامل ہے اس لئے ہرایسی دعا کرنے والا محض مکہ میں داخل ہونے کے لئے ایسی دعا نہیں کرتا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں یہ التجا کرتا ہے کہ اے خدا تو نے جس طرح اپنے پاک محمدصالی ایم کو بار بار بلند سے بلند مقامات میں داخل فرمایا اور ہر بلند مقام سے ایک اور بلند مقام کی طرف نکلنے کی توفیق بخشی۔ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک فرما۔پس اسی ذیل میں قادیان بھی آتا ہے اور یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خطاب ہے اس میں ان معنوں میں قادیان واپسی کے لئے پیش گوئی تھی۔“ 66 الفضل انٹرنیشنل 30 دسمبر 2005ء) 227