برگِ سبز — Page 228
برگ سبز پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے کوچہ ہائے قادیاں قادیان میں گزرے ہوئے بچپن کی یادوں میں ایک بہت ہی نمایاں یاد جلسہ سالانہ کی ہے۔نمازوں کے اوقات میں دور دور تک گلیوں اور بازاروں میں قطار اندر قطار، عبادت گزاروں کے آنسو اور سسکیاں ، جلسہ گاہ میں مختلف رنگ ونسل کے لوگوں کا پر اشتیاق ہجوم، سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے رات کے اندھیروں میں علم ومعرفت کے شائقین کا موم بتیوں کی روشنی میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی روح پرور تقاریر کے نوٹ لینا۔سردی کی شدت میں معمر بزرگوں کا اپنی جسمانی حاجتوں اور ضرورتوں کو دبا کر ہر حال میں جلسہ کی کاروائی میں شامل رہنا۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی آخری آرام گاہ پر دعاؤں کے رقت انگیز مناظر، ہزاروں مہمانوں کی میزبانی کیلئے قادیان کے چھوٹوں بڑوں کا اشتیاق اور مسلسل محنت مہمانوں کا یخ بستہ ہواؤں اور مہاوٹ (سردیوں کی بارش کے باوجود دیوانہ وار قادیان پہنچنا اس زمانہ میں جبکہ سفر کی سہولتیں بہت ہی کم تھیں۔ملتان اور ڈیرہ غازی خاں کے بعض خوش قسمت احمدیوں کے بیان سے تو یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ لوگ بعض اوقات پا پیادہ اس سفر پر چل پڑتے تھے اور اکثر اوقات راستہ میں جوتے اور چپل وغیرہ بھی جواب دے دیتے تو بزبان 228