برگِ سبز — Page 188
برگ سبز بھی کی جہاں آپ کی پر مغز تقاریر کو بہت پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا۔اقوام متحدہ میں اپنے ملک کی نمائندگی کے متعلق بھی آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے ہی بتا دیا گیا تھا۔آپ کو وفات سے قبل آپ کی آخری آرام گاہ یعنی جنت کی زیارت بھی کروائی گئی تھی۔آپ نے اپنے آپ کو ایک بڑی پر فضا جگہ میں دیکھا اور وہاں ایک مور دیکھا جس سے آپ نے عربی زبان میں گفتگو کی اور پوچھنے پر اس نے بتایا کہ میں جنت کی مخلوق ہوں اور آپ کی خدمت کیلئے مقرر ہوں۔اور آپ کی وفات کے متعلق کئی لوگوں نے خوابیں دیکھی تھیں۔مکرم چوہدری عنایت اللہ صاحب احمدی مربی تنزانیہ نے بھی خواب میں دیکھا کہ آپ مغرب کی طرف دھوئیں میں غائب ہو گئے ہیں اور حقیقتا آپ کی وفات ایسی اچانک ہوئی کہ کوئی اس خبر کو ماننے کے لئے تیار نہ ہوتا تھا۔صدر تنزانیہ کے ہمراہ آپ ایک غیر ملکی سفر پر گئے ہوئے تھے وہاں واپسی پر بیمار ہو گئے۔ہر ممکن کوشش کے باوجود آپ کے مرض کا علاج بلکہ تشخیص بھی یہاں نہ ہوسکی۔پھر صدر مملکت نے ذاتی طور پر توجہ دیتے ہوئے آپ کو علاج کیلئے مغربی جرمنی بھجوا دیا لیکن آپ اس بیماری سے جانبر نہ ہو سکے اور نومبر 1964ء میں وہیں وفات پاگئے۔آپ کی وصیت کے مطابق جنازہ دار السلام لایا گیا، یہیں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔آپ کے جنازہ میں اس کثرت سے لوگ شامل ہوئے کہ بلا مبالغہ اس سے قبل اور اس کے بعد بھی آج تک کسی لیڈر کے جنازہ میں اس ملک میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ شامل نہیں ہوئے۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مشرقی افریقہ کے تینوں ممالک یعنی کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ کے سربراہان مملکت آپ کی تدفین کے موقع پر ذاتی طور پر موجود تھے۔آپ نے چالیس سال کی مختصر عمر پائی لیکن اس عمر میں ہی اپنی محنت ، مطالعہ اور احمدیت کی برکت اور دعاؤں کی 188