برگِ سبز — Page 189
برگ سبز وجہ سے غیر معمولی طور پر خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنے۔احمدیت کی ترقی میں آپ کی کوششوں کا بہت بڑا دخل ہے۔آج بھی لوگ ان کو یاد کرتے اور ان کی کمی کو بہت محسوس کرتے ہیں۔خاکسار کو ایک دوست نے بڑے جذبہ اور محبت کے ساتھ بتایا کہ جب مکرم و محترم حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب تنزانیہ تشریف لائے تو ایک موقع پر جبکہ چودھری صاحب مسجد سے باہر تشریف لے جارہے تھے آپ نے آگے بڑھ کر آپ کو جوتا پہنا نا شروع کر دیا اور محترم چودھری صاحب کے روکنے پر کہنے لگے کہ میں آپ کی خدمت و عزت آپ کے کسی عہدہ یا دنیوی وجاہت کی وجہ سے نہیں کر رہا بلکہ میں عقیدت کے یہ جذبات محض اس لئے رکھتا ہوں کہ آپ کی آنکھوں نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام، بانی سلسلہ احمدیہ کا چیر و مبارک دیکھا ہوا ہے۔حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے بھی آپ کے تعلق باللہ محنت اور علم کی تعریف فرمائی تھی۔آپ کا وہ ذکر جو ہمیشہ ہوتا رہتا ہے ایمان والوں کی وہ جماعت جو بطور یادگار کے تنزانیہ میں قائم ہے بتاتی ہے کہ واقعی آپ ایک خدا رسیدہ بزرگ اور ولی اللہ تھے جنہوں نے اپنی نفسانی خواہشات کو ترک کر کے دین کو دنیا پر مقدم کر لیا تھا۔خدا کرے کہ ایسے خدا رسیدہ وجود ہمیشہ - ہی ہماری جماعت میں بڑی کثرت سے پائے جاتے رہیں۔( بشکریہ روزنامه الفضل ربوہ ، 18 جون 1994 ، صفحہ 4-5) 189 الفضل انٹر نیشنل 11 نومبر 1994 صفحہ 3)