برگِ سبز

by Other Authors

Page 179 of 303

برگِ سبز — Page 179

برگ سبز دفاع کا ذریعہ ہوتے ہیں اس لئے تمہیں ہمیشہ ان کا خیال رکھنا چاہئے۔تمہارے لئے سب سے زیادہ ناپسندیدہ وہ شخص ہونا چاہئے جو لوگوں کی کمزوریوں کی ٹوہ میں لگا رہے کیونکہ لوگوں میں کمزوریاں تو ہوتی ہیں اور حاکم کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ ان کی پردہ پوشی کرے۔تمہاری ذمہ داری تو صرف انہی امور کی اصلاح کی حد تک ہے جو سامنے اور ظاہر ہیں۔پوشیدہ امور کو خدا تعالیٰ پر چھوڑ دووہ جیسے چاہے سلوک فرمادے۔لوگوں سے درگزر کا معاملہ کرو اللہ تعالیٰ ان امور کے متعلق جو تم ظاہر نہیں کرنا چاہتے تمہاری پردہ پوشی فرمائے گا۔نفرت اور دشمنی کی ہر گرہ کو کاٹ کر پھینک دو۔جو بات پوری طرح واضح نہ ہو اس کے متعلق چشم پوشی کا طریق رکھو۔کسی چغل خور کی بات ماننے میں جلدی نہ کرو کیونکہ چغل خور اگر چہ خیر خواہ نظر آتا ہے مگر وہ دھو کے باز ہے۔کسی کنجوس کو اپنے مشیروں میں شامل نہ کرو۔وہ تمہیں سخاوت سے محروم رکھے گا۔نہ ہی کسی بز دل کو شیر رکھو کیونکہ وہ کوشش کرے گا کہ تم اپنے آپ کو کمزور ہی سمجھتے رہو۔کوئی لالچی بھی تمہارا مشیر نہیں ہونا چاہئے وہ تمہیں نا جائز ذرائع سے مال جمع کرنے کی رغبت دلاتا رہے گا۔کنجوس ، بزدلی اور لالچ اگر چہ تین مختلف برائیاں ہیں مگر ان تینوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے متعلق بدظنی پیدا ہوتی ہے۔اچھا مشیر وہی ہوسکتا ہے جو تمہارے سامنے سچ بات کہنے کی جرات وصلاحیت رکھتا ہو اور وہ تمہارے رجحان کو دیکھ کر تمہارے ایسے کاموں کی تعریف نہ شروع کر دے۔جو اولیاء اللہ کی شان سے بعید ہوں۔ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرو جو خدا کا خوف رکھنے والے اور صداقت شعار ہوں اور انہیں یہ موقع نہ دو کہ وہ بلا وجہ تمہاری تعریف کرتے رہیں کیونکہ خوشامد تکبر پیدا کرتی اور راہ راست سے دور لے جاتی ہے۔۔۔۔روزنامه الفضل ربوہ 9 مارچ 1996ء) 179