برگِ سبز

by Other Authors

Page 178 of 303

برگِ سبز — Page 178

برگ سبز اور نہ ہی اس کے رحم و کرم کے بغیر تم کچھ کر سکتے ہو۔معافی اور درگز ر پر کبھی نادم نہ ہو۔غصہ اور جلد بازی میں کوئی کام نہ کرو۔یہ نہ سمجھو کہ میں حاکم ہوں اور میری ہر بات ضرور مانی جاوے، اس طرح دلوں میں الجھن اور مذہب میں کمزوری آجاتی ہے اور انسان تباہی کے کنارے پہنچ جاتا ہے۔اگر تمہارا اختیار وحکومت تم میں فخر و غرور پیدا کرے تو خدا تعالیٰ کی عظمت کی طرف نظر ڈالو جس کے اختیار کی کوئی حد نہیں ہے اور تمہیں تو اس طرح کا اختیار اپنی ذات پر بھی نہیں ہے یہ سوچنے سے تم اپنے غرور اور بد مزاجی پر قابو پا کر اعتدال اور عقل کی طرف واپس آسکو گے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی طرح بڑا یا اس کے برابر نہ سمجھو کیونکہ اللہ تعالیٰ مغرور و متکبر کوضرور ذلیل کرتا ہے۔ان لوگوں سے بھی انصاف اور برابری کا معاملہ کرو جو تمہارے نزد یکی اور مقرب ہیں اور جن کو تم پسند کرتے ہو ، لوگوں کو بے جاد بانے اور ان پر ظلم کرنے والے کا خدا تعالیٰ دشمن ہو جاتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی کا دشمن ہو جائے تو اس کی بیخ کنی کر دیتا اور اسے پامال کر کے چھوڑتا ہے۔ظلم سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے فضل و رحم سے محرومی کا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ مظلوم کی دعا سنتا ہے اور ظالم کا خود مقابلہ کرتا ہے۔تمہارے لئے پسندیدہ طریق وہی ہے جو حق و انصاف پر مبنی ہو اور جسے عام لوگ پسند کریں کیونکہ مخصوص افراد کے دلائل عوام کی متفقہ پسند کے مقابل پر رد کئے جانے کے قابل ہوتے ہیں۔ایک حاکم کے لئے وہ شخص دردسر بنارہتا ہے جو مشکل میں مددگار نہ ہو اور معقول طریق کو پسند نہ کرتا ہو۔حسن سلوک پر شکر گزار نہ ہوتا ہو اور کوئی وجہ اور دلیل نہ سمجھتا ہو اور قوت برداشت کم رکھتا ہو اور بے جا مطالبات کرنے کا عادی ہو۔کسی جماعت کے عام آدمی ہی مذہب کے ستون۔قوم کی طاقت اور دشمنوں کے خلاف 178