برگِ سبز — Page 117
برگ سبز ذرائع بہت محدود اور سست رفتار ہونے کی وجہ سے بھی وقت بہت زیادہ لگتا ہوگا۔حضور نے یہ سارے کام کس شکر گزاری کے جذبے کے تحت کئے ہوں گے کہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کی بارش شروع ہوگئی اور طباعت کی آسانیاں پیدا ہونی شروع ہوگئیں اور آج کل تو پلک جھپکتے میں پیغام ساری دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کسی مسئلہ کی وضاحت یا کسی حوالہ کی ضرورت کا اپنے خطبه یا درس میں ذکر فرماتے ہیں اور اس خطبہ اور درس کے ختم ہونے سے قبل پاکستان بلکہ دنیا بھر سے پیغامات وصول ہو چکے ہوتے ہیں۔کسی نئی مالی تحریک پر اس خطبہ کے ختم ہونے سے پہلے مخلصین لبیک کہتے ہوئے اپنے وعدے بھیج چکے ہوتے ہیں بلکہ اگر کسی تحریک کو عالمی سطح پر پھیلا کر نہ کیا جائے تو قربانی کے ہر میدان میں مسابقت کی روح سے سرشار عشاق یہ درخواست بھی کر چکے ہوتے ہیں کہ ہمیں ثواب کے اس موقع سے محروم نہ کیا جائے اور ہمیں بھی نیکی کے اس کام میں شرکت کی اجازت دی جائے۔حضرت مسیح موعود علیشا کے زمانہ میں تو یہ حال تھا کہ مہمانوں کی سہولت کے لئے ایک کنواں تیار کروانے کی ضرورت پیش آئی۔اس مقصد کے لئے قریباً تین صد روپے کی ضرورت تھی۔حضور کو اس معمولی رقم کے لئے الگ تحریک کرنی پڑی اور اس طرح کنواں تیار ہوا۔یہ تو بالکل ابتدائی زمانہ کی بات ہے۔حضرت مصلح موعود بنی عنہ نے رسالہ تشحیذ الاذہان کے لئے بڑی پر زور تحریک فرمائی اور چندہ بمشکل چند روپے جمع ہو سکا۔خلافت ثانیہ میں ہی جب لاؤڈ سپیکر شروع ہوا اور حضرت مصلح موعودؓ کو اس کی ضرورت محسوس ہوئی تو آپ نے جماعت کو اس کی افادیت و ضرورت پر آگاہ کرنے کے بعد الگ سے اس مقصد کے لئے چندے کی تحریک کی جبکہ یہ بھی کوئی بہت بڑا خرچ نہیں تھا۔پھر لاؤڈ سپیکر لگ جانے کے بعد حضور نے خدا تعالیٰ 117