برگِ سبز — Page 50
برگ سبز فائدہ اٹھایا اور شاید کسی پڑھنے والے کے لئے مفید ہو یہاں تحریر کر رہا ہوں۔استاد مکرم مولنا ابوالعطاء صاحب نے یاد فرمایا اور کہنے لگے میرے پاس بہت سے خطوط اور سوالات جمع ہو گئے ہیں اگر آپ فلاں وقت آجائیں تو میں جلدی جلدی ان کے جواب لکھوا سکوں گا۔خاکسار وقت مقررہ پر حاضر ہو گیا۔کئی خطوط کے جواب لکھے۔حضرت مولانا صاحب کوئی کتاب دیکھ رہے تھے ، سامنے ان کی شیروانی لٹک رہی تھی۔اس طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمانے لگے کہ اس میں سے رومال پکڑا دیں۔میں نے دائیں جیب یا بائیں جیب کا خیال کئے بغیر باہر سے دونوں جیبیں ٹٹول کر دیکھیں۔حضرت مولانا صاحب نے مجھے ایسے کرتے ہوئے دیکھ لیا، فرمانے لگے: رو مال بائیں جیب میں ہوتا ہے“ میہ ایک سرسری سی بات تھی لیکن میں نے ہمیشہ اس بات سے فائدہ اٹھایا کہ دائیں طرف کیا ہونا چاہئے اور بائیں طرف کیا! خط و کتابت کا ذکر ہو رہا تھا۔خطوط صرف خیریت کی خبر ہی نہیں پہنچاتے تھے بلکہ اس زمانہ میں تمام ضروری باتیں بھی خطوں کے ذریعہ ہی ہوتی تھیں ؎ چند تصویر بتاں چند حسینوں کے خطوط بعد مرنے کے میرے گھر سے یہ ساماں نکلا سے بھی خطوط کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔کسی عزیز کا خط ملتا تو اسے تکیہ کے نیچے رکھا جاتا۔بار بار پڑھا جا تا اور لطف لیا جاتا یا اس کے برعکس بھی ہوتا تھا۔ہمارے ایک بزرگ کا یہ لطیفہ بھی بہت دُہرایا جاتا تھا کہ میں مرکز سے آنے والی ڈاک رات کے وقت نہیں کھولتا۔رات آرام سے سو کر صبح ڈاک پڑھتا ہوں۔50