برگِ سبز — Page 51
برگ سبز خاکسار جب ملک سے باہر ہوتا تھا تو یہ اہتمام کرتا تھا کہ اماں جی کو ہفتہ میں ایک خط ضرور لکھ دوں تا وہ میری خیریت سے باخبر رہیں اور میری سستی یا تاخیر کی وجہ سے پریشان نہ ہوں۔خاکسار کو بخوبی یاد ہے کہ پردیس میں رہنے والے نوجوانوں کو با قاعدہ خط لکھنے کی طرف توجہ دلایا کرتا تھا بلکہ ان سے یہ بھی پوچھا کرتا تھا کہ انہوں نے گھر خط لکھ دیا ہے یا کب لکھا تھا۔او پر پین کا ذکر ہو چکا ہے اس کے بعد تو بال پوائنٹ کا زمانہ آیا اور سیاہی پرانے زمانے کی بات ہو گئی اور اب تو تحریر میں ٹائپ رائٹر کا زمانہ بھی چلا گیا اور کمپوزنگ کی نت نئی شکلیں اور آسانیاں سامنے آگئی ہیں جن سے سہولت تو بہر حال زیادہ ہوگئی ہے مگر خطوں کا اپنا ہی مزہ تھا۔غالب کے خطوط کو بہت شہرت حاصل ہوئی اور کئی ادیبوں کے خطوط انکی ادبی خدمات میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔اور تو اور ایک عزیز کے نام خط حضرت چودھری ظفر اللہ خان صاحب کی ایک بہت اہم کتاب ہے۔یعنی خط کتاب کی شکل اختیار کر گیا اور اس میں مذہب کی ضرورت و اہمیت کا مضمون بہت عمدہ پیرا یہ میں بیان ہو گیا۔’وا ذالصحف نشرت“ کا یہ سلسلہ جاری ہے اور جاری رہے گا۔کون جانے مستقبل میں کیا کیا ظاہر ہونے والا ہے۔51