برگِ سبز — Page 148
برگ سبز رسائل کی صورت میں اس کی تکمیل کروں مگر علم الہی میں اس کے لئے وہ وقت نہ تھا۔اس لئے ایک رسالہ کے بعد میں کچھ نہ لکھ سکا۔بعض دوستوں نے مضحکہ بھی اُڑایا کہ وہ کسی مضمون پر لکھنے کا اعلان کرتا ہے اور پھر خاموش ہو جاتا ہے۔مجھے ایسے معترضین پر ہمیشہ رحم آیا کہ وہ خود کچھ نہیں کر سکتے اور اس کو چہ سے ناواقف ہیں۔بہر حال اب اللہ تعالیٰ نے مجھے اس عمر میں جبکہ محنت کی طاقت ختم ہو رہی ہے توفیق بخشی کہ اس خواہش کے پورا کرنے کیلئے قلم اٹھاؤں اور میں اس رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اس موضوع پر آغاز تحریر کرتا ہوں اور اس ابتدائی بیان میں اس امر کا اظہار بھی کرنا چاہتا ہوں کہ آداب و اخلاق دو جداگانہ اعمال ہیں۔۔۔اس بحث کے بعد میں عملی زندگی کے آداب پر بحث کرنے کی اپنے علم و فہم کے مطابق کوشش کروں گا۔اسے مفید و با برکت بنا نا اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم پر موقوف ہے۔“ اس کتاب کے بعض ذیلی عنوان درج ذیل ہیں : آداب یا ایٹی کیٹ۔فطری و طبعی ضرورتوں کے آداب۔کھانے پینے کے آداب۔دوسری فطری ضروریات کے آداب طہارت وغیرہ)۔تیسری طبعی ضرورت کے آداب ( نیند ) - تمدنی ضروریات کے آداب۔آداب مجلس - آداب ملاقات - آداب الکلام۔شہریت کے آداب - متفرق آداب۔مذکورہ بالا عنوانوں سے ظاہر ہے کہ روز مرہ سے تعلق رکھنے والے ارشادات کا یہ ایک حسین مرقع ومجموعہ ہے۔یہ پیاری کتاب جو قریباً اڑھائی سو صفحات پر مشتمل ہے ہر صفحہ پر ایسی ہدایات اور رہنمائی پیش کرتی ہے جو انسان کی بہتر زندگی گزارنے کی ضمانت اور خدا تعالیٰ کی رضاء و خوشنودی کے حصول کا باعث ہے۔مغربی اقوام اور کلام الہی کا معیار لباس کے عنوان 148