برگِ سبز — Page 149
برگ سبز کے تحت حضرت عرفانی صاحب تحریر فرماتے ہیں: مغربی اقوام نے جنہیں اپنی تہذیب و تمدن پر ناز ہے۔لباس کو محض فیشن یا زینت کا ذریعہ بنایا۔کلام اللہ اس کی زینت کے پہلو نظر انداز نہیں کرتا مگر وہ اس زینت کی اجازت نہیں دیتا جو ستر پوشی اور تقویٰ کی باریک سے بار یک رعایتوں سے عاری ہو۔اسے خوب یاد رکھو کہ کلام الہی محض ستر پوشی یا زینت مقصد قرار نہیں دیتا بلکہ وہ کہتا ہے ( تقویٰ کا لباس بہتر ہے ) زینت اور ستر پوشی اس کے جسمانی پہلو ہیں اس کی اصل غرض تقویٰ اللہ ہے اس لئے جس لباس سے یہ مقصد حاصل نہ ہو خواہ وہ کیسا ہی اعلیٰ درجہ کا ہو اور کیسا ہی خوبصورت ہو وہ نگاہ تقویٰ میں عریانی ہے۔یہاں کلام الہی نے فلسفہ لباس کے متعلق ایک اصل تعلیم فرمایا۔ایک دوسرے مقام پر اس کی نہایت لطیف صراحت فرماتا ہے چنانچہ عورت کے متعلق فرماتا ہے۔۔۔عورتیں تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔غور کروکس لطیف پیرایہ میں عفت اور احسان کی تعلیم دی ہے اور لباس کے مقصد تقویٰ کی طرف متوجہ کیا ہے۔میں اس کتاب کو لکھ رہا ہوں اور ہر مرحلہ پر میں اپنے آپ کو بے بس پاتا ہوں۔کلام الہی کے حقائق ومعارف کا ایک بے پایاں سمندر میرے سامنے ہوتا ہے اور میں اس میں سے ایک چلو کے برابر بھی نہیں لے سکتا بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ایک قطرہ سے بھی کم۔149 (روزنامه الفضل ربوہ 18 جولائی 1995ء)