برگِ سبز — Page 122
برگ سبز صاحب سے مجھے دیرینہ دوستی کا فخر ہے۔آپ آج کل ( یہ تحریر 1955 ء کی ہے۔ناقل ) جماعت کراچی کے نہایت مخلص رکن ہیں اور ان کی سلسلہ سے وابستگی اور محبت دیکھ کر مجھے رشک پیدا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں اپنے اخلاص و محبت میں ترقی عطا فرمائے اور ان کی اولاد کو اپنے نیک والد اور نہایت بزرگ و عاشق احمدیت نانا جان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور دینی و دنیوی نعماء سے سرفراز و مالا مال فرما دے۔“ اس کتاب کے تعارف کے طور پر مذکورہ بالا تحریروں کے بعد کچھ اور لکھنے کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہتی۔یہ ایک عجیب حسن اتفاق ہے کہ حضرت مولوی عبد المالک خان صاحب اور حضرت چوہدری عبد اللہ خان صاحب دونوں فن خطابت کے شہسوار تھے۔مگران کی تحریریں بہت کم ہیں۔اس لحاظ سے اس کتاب میں ان کی یہ تحریریں کئی لحاظ سے بہت قابل قدر ہیں۔حضرت مولوی فیض الدین صاحب سیالکوٹ کی مشہور ” مسجد کبوتراں والی میں امام و خطیب تھے۔آپ کی نیکی تقویٰ اور قرب الہی کی دورونزدیک شہرت تھی۔آپ بچوں کو قرآن مجید پڑھاتے تھے۔حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب ، حضرت چوہدری عبد اللہ خان صاحب اور ایک روایت کے مطابق علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال نے بھی بچپن میں آپ سے قرآن مجید پڑھا تھا۔قبول احمدیت کی سعادت کے حصول پر آپ کو بہت مخالفت و مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔آپ کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا گیا کہ آپ نے مسجد کی دریاں اور سائبان بیچ کر کھالئے ہیں۔سارے شہر میں اس مقدمہ کا چرچا تھا۔مجسٹریٹ کے روبرو بے شمار گواہ ایک جھوٹ کی تائید میں اس شخص کے خلاف پیش کئے جارہے تھے ، جو کل تک ان کے 122