برگِ سبز

by Other Authors

Page 123 of 303

برگِ سبز — Page 123

برگ سبز نزدیک اللہ والا تھا۔پیر تھا ، نیک بزرگ تھا۔آج وہ سائبان بیچ کر کھا جانے والا کہلا رہا تھا۔یکے بعد دیگرے گواہ جاتے اور حاکم ان سے حلف اٹھوا کر گواہی لیتا، جرح کرتا۔ادھر مولوی صاحب کا یہ حال تھا کہ نہایت الحاح وزاری سے عدالت کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے دعا میں مصروف اس انتظار میں کھڑے تھے کہ حاکم کب بلاتا ہے لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ آپ کو بلانے کی نوبت ہی نہ آئی اور حاکم نے مقدمہ خارج کر دیا۔تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ خدا کی نصرت اس رنگ میں نازل ہوئی کہ ان گواہوں میں ایک شخص حیات تمبا کو والا تھا۔حسب معمول حاکم نے اس سے بھی حلف اٹھوا کر دریافت کیا کہ کیا تم جانتے ہو کہ مولوی فیض الدین نے مسجد کا سائبان بیچا ہے۔گواہ نے حلف اٹھا کر جواب میں میز پر دو روپے رکھ دیئے اور کہا کہ مجھے تو سامان بیچنے کا علم نہیں البتہ مجھے ان دو روپوں کے عوض یہاں لا یا گیا ہے۔اس واقعہ سے عدالت میں سناٹا چھا گیا اور مجسٹریٹ نے ان تمام جھوٹی شہادتوں کے طومار کو پھینک دیا اور مقدمہ خارج کر دیا۔حضرت مولوی صاحب کی متعدد نمایاں خوبیوں کے ذکر میں جذبہ خدمت کے عنوان کے تحت لکھا ہے کہ: وو۔۔۔حضرت مولوی صاحب موصوف ساری زندگی۔۔۔شب و روز جماعت کے مردوں اور عورتوں کی تعلیم و تربیت میں مصروف رہتے۔اسی طرح اور بھی جو خدمت سلسلہ کا موقع ملتا تو آپ اسے پوری تندہی سے سرانجام دیتے اور آپ نے اس کے بدلہ کی کبھی تمنانہ کی بلکہ کبھی آپ کے سامنے اس قسم کا اظہار بھی کسی نے کیا تو آپ نے ناپسند فرمایا۔چنانچہ ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب بیان فرماتے ہیں کہ جماعت سیالکوٹ کے بعض سرکردہ احباب نے باہم مشورہ کر کے یہ فیصلہ کیا 123