براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 28
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام غلط (FALSE) ہے۔CONCLUSION 28 لہذا اوپر کی دلیل REDUCTION ABSORDUM ہونے کی وجہ سے غلط ہے۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے قرآن کریم فرماتا ہے۔يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُو۔۔۔الخ یعنی وہ دشمن مسیح موعود چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں لیکن اللہ اپنے نور کو آپ کے ذریعہ سے مکمل کرے گا خواہ کا فرنا پسند ہی کریں۔یعنی فرمایا کہ اے معترض اگر تمہارے دعوے بچے ہیں تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ حضرت مرزا صاحب کو اللہ تعالیٰ کی تائید حاصل ہو۔حالانکہ امر واقعی یہ ہے کہ خدا کی تائید آپ کو حاصل ہے۔نہ صرف یہ بلکہ حضرت مرزا صاحب کا وجود وہ وجو د ہے جس کے ذریعہ اللہ عزوجل کی آنحضرت صلی لی ایم کے حق میں یہ پیشگوئی پوری ہو نا خدا کو منظور ہوا کہ آپ کے ذریعہ سے دین حق کو تمام دنیا پر غالب کر دے۔36 لیکن ایک دوسرے مقام پر مولوی عبدالحق صاحب لکھتے ہیں: جسم کے افعال کو عقل و جذبات کے زیر حکومت رکھنا مذ ہب کا کام ہے۔" 37" یہاں پر عقل اور جذبات دونوں کو مذہب کے زیر حکومت لے آئے ہیں جبکہ پہلے اقتباس میں جذبات اور وجد ان قلب کو فوقیت دیتے ہیں پھر ایک اور مقام پر لکھتے ہیں: مذہب کا حق یہ ہے کہ وہ عقل و جذبات کو ساتھ ساتھ اور برابر بڑھائے باہم اعتدال قائم رکھے اور قوتِ حیوانی کو دماغی اور احساسی حصہ جسم کی پرورش نشو و نما میں یکساں صرف کرے۔38 3999 اس موقعہ پر مولوی عبد الحق صاحب عقل و جذبات کو حد اعتدال میں اور یکساں نشو و نما چڑھانا چاہتے ہیں۔پھر ایک مقام پر لکھتے ہیں: “ جہاں عقل اور جذبات میں اتحاد و اعتدال نہیں رکھا گیا وہ مذہب نہیں بلکہ ایک قسم کا فلسفہ یا کچھ اور ہے۔" اب تھوڑا سا حال “جذبات لطیفہ یا وجدان قلب " کا بھی خود مولوی عبد الحق کے اپنے الفاظ مرتب مقدمات عبادت بریلوی کے نام خط میں ملاحظہ ہوں: آپ عطیہ بیگم کے خطوط سے متر در نہ ہوں۔اس سے مولانا شبلی کی منقصت نہیں ہوتی۔لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ نرے خشک ملا یا مولوی نہ تھے۔بلکہ لطیف انسانی جذبات بھی رکھتے تھے۔وہ شاعر تھے اور عاشق مزاج بھی تھے اور یہ ان کے لیے عیب نہیں بلکہ خوبی ہے۔اس سے ان کی وقعت اور بڑھنی چاہیے۔لوگوں کے سمجھنے اور بد گمانی کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔یہ رائیں فوری ہوتی ہیں۔صحیح فیصلہ زمانے کے ہاتھ ہے۔" 40 جب ایسے جذبات لطیفہ یا وجد ان قلب کو فوقیت دی جائے گی اور اسے عیب کی بجائے خوبی گردانا جائے گا اور ان کو منطق و استدلال پر ترجیح دی جائے گی تو جو نتیجہ نکلے گاوہ یہ ہو گا: “ ایسے لوگ جو عبادت کا تعلق صرف قلب کے متعلق سمجھ کر یہ خیال کرتے ہیں کہ صرف دل کی عبادت کافی ہے کچھ دنوں کے بعد دلی عبادت سے بھی محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ تھوڑے ہی عرصے میں ان کی روح کی تازگی جاتی رہتی ہے اور سستی اس پر غالب آجاتی ہے اور اس طرح مرجھائی جاتی ہے۔جس طرح قشر سے الگ کیا ہو امغز۔۔۔ایسے لوگوں کا رفتہ رفتہ قلب بھی سیاہ ہو جاتا ہے کیونکہ جسم روح کے ساتھ وہی تعلق رکھتا ہے جو کہ ایک میوہ کا قشر