براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 29 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 29

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام اس کے مغز سے ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ قشر خود مطلوب نہیں لیکن قشر کو جب مغز سے جد اکر دو گے تو وہ فور یا کچھ دیر کے بعد بالکل بر باد ہو جائے گا۔اسی طرح اگر عبادات میں جسم کو بھی شامل نہ کیا جائے تو ایسی عبادات جلد فنا ہو جاتی ہیں۔"41 29 “ قرآن کریم میں یہ کہیں نہیں کہ ذکر الہی کرتے ہوئے غشی آجاتی اور بیہوشی طاری ہو جاتی ہے۔یاسننے والے سر مارنا اور اچھلنا شروع کر دیتے ہیں بلکہ ذکر الہی سے الانفال: 3، الزمر : 24 اور مریم : 59 سے ثابت ہے کہ ذکر کرنے والوں کی یہ حالتیں ہوتی ہیں ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور ان میں خوف پیدا ہو جاتا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا رب بڑی شان والا اور شوکت والا ہے۔۲۔خوف سے ان کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں۔۳۔ان کے بدن ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور دل نرم ہو جاتے ہیں۔۴۔وہ سجدہ میں گر جاتے ہیں یعنی عبادت میں مشغول ہو جاتے ہیں۔۵۔رونے لگ جاتے ہیں۔۔۔اگر نا چنا کو دنا بے ہوش ہونا اور زور زور سے چیچنا بھی ہو تا تو اللہ تعالیٰ ان کو بھی بیان کرتا۔۔۔لیکن اللہ تعالیٰ نے تو ان میں سے کوئی ایک بات بھی بیان نہیں فرمائی۔اس سے معلوم ہوا کہ ان کا ذکر الہی سے کوئی تعلق نہیں۔" 42 اور یہی جذبات لطیفہ یا وجد ان قلب ہے نہ کہ مولوی عبد الحق صاحب کے خود ساختہ خیالات، جن کی وضاحت مولوی عبد الحق صاحب نے کی ہے اور انہیں اوپر درج کر دیا گیا ہے۔در اصل یہ مقدمات اُن کا خاص میدان نہیں ہیں جیسا کہ مرتب مقدمات عبد الحق عبادت بریلوی نے لکھا ہے کہ : “ادبی و لسانی موضوعات کے ساتھ ساتھ بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق صاحب کے بعض مقدمات ایسے موضوعات پر ہیں جو اُن کا خاص میدان نہیں ہے۔مثلاً انہوں نے ایسی کتابوں پر بھی مقدمے لکھے ہیں جن کا موضوع اسلام اور اس کے مختلف معاملات و مسائل ہیں۔ان مقدمات میں مقدمہ اعظم الکلام فی ارتقاء الاسلام ، مقدمہ تحقیق الجہاد اور معرکہ مذہب و سائنس بہت اہم ہیں۔ان مقدمات میں جو کچھ انہوں نے لکھا ہے اُس سے دینی و دنیاوی پہلوؤں کے متعلق ان کے خیالات و نظریات کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔" 43 مذکورہ تینوں مقدمات سے ہی اس مضمون میں حوالے دیئے گئے ہیں۔مقدمہ “ معر کہ مذہب و سائنس ” کے متعلق مولوی عبد الحق صاحب، مرتب مقدمات عبادت بریلوی کو ایک خط میں لکھتے ہیں: میں نہیں چاہتا تھا اور کئی عنوان سے آپ سے عرض بھی کیا تھا کہ آپ معر کہ مذہب و سائنس کو اس مجموعے میں داخل نہ فرمائیں لیکن آپ نہ مانے۔تعجب ہے کہ یہ مقدمہ آپ کو پسند ہے۔اصل یہ ہے کہ یہ میرے نوٹ تھے جو میں نے مقدمے کے لئے تیار کیے تھے۔ظفر علی خان صاحب کو آپ جانتے ہیں۔اُن کی طبیعت میں جلد بازی ہے۔وہ آئے اور لے کر چل دیئے۔اس کے بعد دفعتاً اُن کا یہاں سے جانا ہوا میں نے بہت لکھا کہ اسے واپس کر دو تو میں اصل مقد مہ جو لکھنا چاہتا ہوں لکھ دوں مگر اُنہوں نے کاغذات واپس نہ کیے اور یہ خیال کہ شاید میں نہ لکھوں کاغذات تلف کر دوں اور آخر یہی چھپ گئے۔مجھے یہ مقدمہ اس لیے پسند نہیں کہ اگر میں اب لکھتا تو وہ کچھ اور ہوتا۔یہ وجوہ تھے کہ میں چاہتا تھا کہ مقدمہ اس مجموعے میں شائع نہ ہو۔" 44