براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 173 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 173

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 173 كله 107 یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے۔اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا۔اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جميع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کے رُو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی مقتا بہ واقع ہوئی ہے گویا ایک ہی جو ہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں اور بحدی اتحاد ہے کہ نظر کشفی میں نہایت ہی بار یک امتیاز ہے اور نیز ظاہری طور پر بھی ایک مشابہت ہے اور وہ یوں کہ مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی یعنی موسیٰ کا تابع اور خادم دین تھا اور اس کی انجیل توریت کی فرع ہے اور یہ عاجز بھی اُس جلیل الشان نبی کے احقر خادمین میں سے ہے کہ جو سید الرسل اور سب رسولوں کا سرتاج ہے۔اگر وہ حامد ہیں تو وہ احمد ہے۔اور اگر وہ محمود ہیں تو وہ محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔سوچونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیشگوئی میں ابتدا سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے یعنی حضرت مسیح پیشگوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر اُس کا محل اور مورد ہے یعنی روحانی طور پر دین اسلام کا غلبہ جو حج قاطعہ اور براہین ساطعہ پر موقوف ہے اس عاجز کے ذریعہ سے مقدر ہے۔گو اس کی زندگی میں یا بعد وفات ہو اور اگر چہ دین اسلام اپنے دلائل حقہ کے رُو سے قدیم سے غالب چلا آیا ہے اور ابتدا سے اس کے مخالف رُسوا اور ذلیل ہوتے چلے آئے ہیں۔لیکن اس غلبہ کا مختلف فرقوں اور قوموں پر ظاہر ہونا ایک ایسے زمانہ کے آنے پر موقوف تھا کہ۔۔۔نیز آیت والله متم نورہ کا روحانی طور پر مصداق یہ عاجز ہے اور خدائے تعالیٰ ان دلائل و براہین کو اُن سب باتوں کو جو اس عاجز کے مخالفوں کیلئے لکھے ہیں خود مخالفوں تک پہنچا دے گا اور اُن کا عاجز اور لاجواب اور مغلوب ہونا دنیا میں ظاہر کر کے مفہوم آیت متذکرہ بالا کا پورا کر دے گا۔(5) آج اس موقع کے اثناء میں جبکہ یہ عاجز بغرض تصیح کا پی کو دیکھ رہا تھا۔بعالم کشف چند ورق ہاتھ میں دیئے گئے۔اور اُن پر لکھا ہوا تھا کہ فتح کا نقارہ بجے۔پھر ایک نے مسکر اکر ان ورقوں کی دوسری طرف ایک تصویر دکھلائی اور کہا کہ دیکھو کیا کہتی ہے تصویر تمہاری۔جب اس عاجز نے دیکھا تو وہ اسی عاجز کی تصویر تھی اور سبز پوشاک تھی مگر نہایت رُعبناک جیسے سپہ سالار مسلح فتح یاب ہوتے ہیں اور تصویر کے یمین و یسار میں حجت اللہ القادر و سلطان احمد مختار لکھا تھا۔اور یہ سوموار کا روز انیسویں ذوالحجہ 1300ھ مطابق 22 / اکتوبر 83(18) اور ششم کا تک سمنہ 1940 بکرم ہے۔بخرام که وقت تو نزدیک رسید و پائے محمد یاں بر منار بلند تر محکم افتاد (6) پاک محمد مصطفی نبیوں کا سردار (7) (8) خدا تیرے سب کام درست کر دے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا