براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 174
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام (9) دی ڈیز شکل کم و ہن گاڈ شیل ہیلپ یو گلوری بی ٹو دس لارڈ گوڈ میکر اوف ارتھ اینڈ ہیون وہ دن آتے ہیں کہ خدا تمہاری مدد کرے گا۔108 (10) 174 مولوی چراغ علی صاحب نہ تو پیشگوئیوں اور معجزات اسی طرح کلام اللہ کے قائل ہیں جیسا کہ دیگر موضوعات میں تفصیلاً لکھا گیا ہے لیکن حضرت مرزا صاحب ان کا زندہ ثبوت اپنے وجود میں پیش کرتے ہیں لیکن مولوی عبدالحق صاحب اندھا دھند من مانیاں کرتے جاتے ہیں اور اُن کے ناقلین بلا سوچے سمجھے اور اصل کتاب براہین احمدیہ کو دیکھے بغیر مولوی عبد الحق صاحب کو نقل کرتے جاتے ہیں۔خدا تعالی ایسا سامان پید ا کرے کہ میری یہ تحریر ہی متذکرہ بالا ناقلین کی نظر سے گذرے اور وہ ہوش کے ناخن لیں خواہ مخواہ کی الزام تراشی سے اب بھی رُک جائیں۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔(آمین) مولوی چراغ علی صاحب کلام الہی کی اعلی تاثیروں اور نبی معصوم کی قوت قدسیہ کے کمالات کو بکلی معطل سمجھتے ہیں جیسا کہ موصوف لکھتے ہیں: “ یوبی سنی نے سچ کہا ہے کہ “اسلام کی روحانی قوت پیغمبر اسلام سے شروع ہوئی اور اون پر ختم ہو گئی ” ( Spiritual powers in ”۔Islam” says Ubicini truly, “begins and ends with Mohamed ) مجھے ( یعنی مولوی چراغ علی صاحب کو۔ناقل ) مسٹر میکال کے ان الفاظ سے اتفاق ہے کہ قرآن میں روحانی جانشینی کا کوئی اشارہ نہیں ہے۔اور جب خود پیغمبر اسلام سے جانشین مقرر کرنے کی نسبت سوال کیا گیا تو آپ نے اس قسم کے خیال کو روک دیا " " 109 لیکن حضرت مرزا صاحب اسلام اور کلام الہی کی اعلیٰ تا شیروں اور نبی معصوم کی قوت قدسیہ کے کمالات کو اپنی ذاتِ اقدس میں جاری ثابت کرتے ہیں اور ہمیشہ کے لئے جاری مانتے ہیں۔اسی طرح آیت استخلاف کی رُو سے پیغمبر اسلام کی جانشینی بھی تا قیامت جاری ہے۔مگر مولوی چراغ علی صاحب مستشرقین کی ہم نوائی میں ان امور سے انکار کرتے ہیں اور مولوی عبدالحق صاحب براہین احمدیہ میں مولوی چراغ علی کی مدد دینے کا بلا ثبوت افسانہ تراشتے ہیں ! لیکن خلافت ترکی کا دفاع کرتے ہیں۔جو مولوی چراغ علی صاحب کی مستشرق یوبی سنی UBICINI کی ہمنوائی میں اُن کی شخصیت کا متضاد پہلو ہے۔جب موصوف اسلام کی روحانی قوت کو نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شروع کر کے آپ پر ختم سمجھتے ہیں تو مولوی چراغ علی صاحب خلافت ترکی کا دفاع کس برتے پر کرتے ہیں۔اس بارے میں زیر نظر مضمون کے اگلے حصے میں تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔یوبی سنی اور میکال نے تو یہ بات بطور اعتراض کے لکھی ہے لیکن مولوی چراغ علی اسے بخوشی قبول کر لیتے ہیں ! چنانچہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے اس ضمن میں چند ارشادات ملاحظہ ہوں جو اسلام کی روحانی قوت کے جاری رہنے کے بارے میں ہیں جبکہ مولوی چراغ علی تو چاروں شانے چت ہو کر مسٹر یوبی سنی اور میکال سے اتفاق کئے بیٹھے ہیں۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: کیا ان کا یہ خیال ہے کہ آدم سے لے کر آنحضرت صلی کم تک خدا تعالیٰ اس بات پر قادر تھا کہ اپنی پاک وحی کے ذریعہ سے حق کے طالبوں کو سر چشمہ یقین تک پہنچا دے مگر پھر بعد اس کے اس کے فیضان پر قادر نہ رہا۔یا قادر تو تھا مگر دانستہ اس امت