براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 172
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام ہمیشہ دنیا پر اپنی شعاعیں ڈالتا رہا ہے اور ہمیشہ ڈالتا رہے گا۔اور نیز ان کشوف اور الہامات کے لکھنے کا یہ بھی ایک باعث ہے کہ تا اس سے مومنوں کی قوتِ ایمانی بڑھے اور اُن کے دلوں کو تثبت اور تسلی حاصل ہو۔اور اب آسمان کے نیچے فقط ایک ہی نبی اور ایک ہی کتاب ہے یعنی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم جو اعلیٰ و افضل سب نبیوں سے اور اتم و اکمل سب رسولوں سے اور خاتم الانبیاء اور خیر الناس ہیں جن کی پیروی سے خدائے تعالیٰ ملتا ہے اور ظلماتی پر دے اٹھتے ہیں اور اس جہان میں سچی نجات کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔کیونکہ ان الہامات میں ایسی بہت سی باتیں آئیں گی جن کا ظہور آئندہ زمانوں پر موقوف ہے پس جب یہ زمانہ گزر جائے گا اور ایک نئی دنیا نقاب پوشیدگی سے اپنا چہرہ دکھائے گی اور ان باتوں کی صداقت کو جو اس کتاب میں درج ہے بچشم خود دیکھے گی تو ان کی تقویت ایمان کے لئے یہ پیشین گوئیاں بہت فائدہ دیں گی انشاء اللہ تعالی۔۔۔( ان الہامات مندرجہ براہین احمدیہ میں سے حسب ذوق راقم الحروف صرف بطور نمونہ چند ایک درج ذیل ہیں) (1) 172 اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِيْلِ اللهِ رَدَّ عَلَيْهِمْ رَجُلٌ مِنْ فَارِسَ شَكَرَ اللَّهُ سَعْيَهُ جن لوگوں نے گفر اختیار کیا اور خدا تعالیٰ کی راہ کے مزاحم ہوئے اُن کا ایک مرد فارسی الاصل نے رد لکھا ہے۔اُس کی سعی کا خد اشاکر ہے۔(2) كِتَابُ الْوَلِي ذُوالْفِقَارِ عَلِيَّ ولی کی کتاب علی کی تلوار کی طرح ہے یعنی مخالف کو نیست و نابود کرنے والی جیسے علی کی تلوار نے بڑے بڑے خطرناک معرکوں میں نمایاں کار دکھلائے تھے ایسا ہی یہ بھی دکھلائے گی اور یہ بھی ایک پیشگوئی ہے کہ جو کتاب کی تاثیرات عظیمہ اور برکات عمیمہ پر دلالت کرتی ہے۔(3) پھر بعد اس کے فرمایا وَ لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثَّرَيَّا لَنَاله اگر ایمان ثریا سے لٹکتا ہو تا یعنی زمین سے بالکل اُٹھ جاتا تب بھی شخص مقدم الذکر اُس کو پالیتا۔(4) پھر بعد اس کے فرمایا اَنْزَلْنَاهُ قَرِيبًا مِنَ الْقَادِيَانِ وَ بِالْحَقِّ انْزَلْنَاهُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَ كَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولاً۔یعنی ہم نے ان نشانوں اور عجائبات کو اور نیز اس الہام پر از معارف و حقائق کو قادیان کے قریب اتارا ہے اور ضرورت حقہ کے ساتھ اتارا ہے اور بضرورت حقہ اترا ہے۔خدا اور اس کے رسول نے خبر دی تھی کہ جو اپنے وقت پر پوری ہوئی اور جو کچھ خدا نے چاہا تھاوہ ہونا ہی تھا۔یہ آخری فقرات اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس شخص کے ظہور کے لئے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حدیث متذکرہ بالا میں اشارہ فرما چکے ہیں اور خدائے تعالیٰ اپنے کلام مقدس میں اشارہ فرما چکا ہے چنانچہ وہ اشارہ حصہ سوم کے الہامات میں درج ہو چکا ہے۔اور فرقانی اشارہ اس آیت میں ہے۔هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُوله بِالْهُدَي وَ دِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَي الدِّينِ