براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 171 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 171

171 براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام محبوبان الہی کے لئے خاص ہیں اور ان ربانی خوشنودیوں اور مہربانیوں سے بہرہ یاب ہو گیا ہے جن سے وہ کامل ایماندار بہرہ یاب تھے جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں اور نہ صرف مقال کے طور پر بلکہ حال کے طور پر بھی ان تمام محبتوں کا ایک صافی چشمہ اپنے پر صدق دل میں بہتا ہوا دیکھتا ہے۔یہ تاثیرات فرقان مجید کی سلسلہ وار چلی آتی ہیں اور جب سے آفتاب صداقت ذات بابرکت آنحضرت صلی علیکم دنیا میں آیا اُسی دم سے آج تک ہزار ہانفوس جو استعد اد اور قابلیت رکھتے تھے متابعت کلام الہی اور اتباع رسول مقبول سے مدارج عالیہ مذکورہ بالا تک پہنچ چکے ہیں اور پہنچتے جاتے ہیں۔۔۔۔اگر نبیوں کے تابعین کو ان کے کمالات اور علوم اور معارف میں علی وجہ التبعیت شرکت نہ ہو تو باب وراثت کا بکلی مسدود ہو جاتا ہے یا بہت ہی تنگ اور منقبض رہ جاتا ہے کیونکہ یہ معنے بکلی منافی وراثت ہے کہ جو کچھ فیوض حضرت مبدء فیاض سے اس کے رسولوں اور نبیوں کو ملتے ہیں اور جس نورانیت یقین اور معرفت تک ان مقدسوں کو پہنچایا جاتا ہے اس شربت سے ان کے تابعین کے حلق محض نا آشنار ہیں اور صرف خشک اور ظاہری باتوں سے ہی ان کے آنسو پونچھے جائیں۔ایسی تجویز سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ حضرت فیاض مطلق کی ذات میں بھی ایک قسم کا بخل ہو۔اور نیز اس سے کلام الہی اور رسول مقبول کی عظمت اور بزرگی کی کسر شان لازم آتی ہے کیونکہ کلام الہی کی اعلیٰ تاثیریں اور نبی معصوم کی قوت قدسیہ کے کمالات اس میں ہیں کہ انوار دائمہ کلام الہی کے ہمیشہ قلوب صافیہ اور مستعدہ کو روشن کرتے رہیں نہ یہ کہ تاثیر ان کی بکلی معطل ہو یا صرف معدودے چند تک ہو کر پھر ہمیشہ کے لئے باطل ہو جائے اور زائل القوت دوا کی طرح فقط نام ہی تاثیر کا باقی رہ جائے۔۔۔۔جب تک درخت قائم ہو اس کو پھل بھی لگتے رہیں۔ہاں جو درخت خشک ہو جائے یا جڑ سے کاٹا جائے اس کے پچھلوں کی توقع رکھنا محض نادانی ہے پس جس حالت میں فرقان مجید وہ عظیم الشان و سر سبز و شاداب درخت ہے جس کی جڑھیں زمین کے نیچے تک اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں تو پھر ایسے شجرہ طیبہ کے پھلوں سے کیونکر انکار ہو سکتا ہے۔اس کے پھل بدیہی الظہور ہیں جن کو ہمیشہ لوگ کھاتے رہے ہیں اور اب بھی کھاتے ہیں اور آئندہ بھی کھائیں گے۔اب چند کشوف اور الہامات نو واردہ بغرض افادہ طالبین حق لکھے جاتے ہیں۔یہ باتیں ایسی نہیں ہیں جن کا ثبوت دینے سے یہ خاکسار عاجز ہو یا جن کے ثبوت میں اپنے ہی ہم مذہبوں کو پیش کیا جائے بلکہ یہ وہ بدیہی الصدق باتیں ہیں جن کی صداقت پر مخالف المذہب لوگ گواہ ہیں اور جن کی سچائی پر وہ لوگ شہادت دے سکتے ہیں جو ہمارے دینی دشمن ہیں اور یہ سب اہتمام اس لئے کیا گیا کہ تا اُن پر بکمال انکشاف ظاہر ہو جائے کہ تمام برکات اور انوار اسلام میں محدود اور محصور ہیں اور تاجو ظلمت سے دوستی اور نور سے دشمنی رکھ کر حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مراتب عالیہ سے انکار کر کے اس عالی جناب کی شان کی نسبت پر محبت کلمات مونہہ پر لاتے ہیں اور اس افضل البشر پر ناحق کی تہمتیں لگاتے ہیں اور باعث غایت درجہ کی کور باطنی کے اور بوجہ نہایت درجہ کی بے ایمانی کے اس بات سے بے خبر ہو رہے ہیں کہ دنیا میں وہی ایک کامل انسان آیا ہے جس کا نور آفتاب کی طرح