براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 170
170 براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام سمجھانا ضروری تھا کہ وہ صانع ہر ایک طور کی شرکت سے پاک ہے سو اس کی طرف اشارہ فرما یا قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللهُ الصَّمَدُ الخ اس اقل عبارت کو جو بقدر ایک سطر بھی نہیں دیکھنا چاہئے کہ کس لطافت اور عمدگی سے ہر یک قسم کی شراکت سے وجود حضرت باری کا منزہ ہونا بیان فرمایا ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ۔۔ہ یہ چند آیات قرآن شریف ہیں جن کور گوید کی طول طویل شرتیوں کے مقابلہ پر ہم نے اس جگہ بیان کیا ہے اب وید کی شرتیوں میں جس قدر بے فائدہ طوالت اور فضول تقریر اور بے سروپا اور دھوکا دینے والا مضمون اور غیر معقول باتیں ہیں بمقابلہ اس کے دیکھنا چاہئے کہ کیونکر قرآن شریف کی آیات میں بکمال ایجاز و لطافت توحید کے ایک عظیم الشان دریا کو معہ دلائل حکمیه و بر این فلسفیه اقل قلیل الفاظ میں بھر دیا ہے اور کیونکر مدلل اور موجز عبارت میں تمام ضروریات توحید کا ثبوت دے کر طالبین حق پر معرفت الہی کا دروازہ کھول دیا ہے اور کیونکر ہر یک آیت اپنے پر زور بیان سے مستعد دلوں پر پورا پورا اثر ڈال رہی ہے اور اندرونی تاریکیوں کو دور کرنے کے لئے اعلیٰ درجہ کی روشنی دکھلا رہی ہے اسی جگہ سے دانا انسان سمجھ سکتا ہے کہ کس کتاب میں بلاغت اور خوش بیانی اور زور تقریر پایا جاتا ہے اور کون سی کتاب کلام بلیغ اور فصیح سے محروم ہے۔۔۔۔۔۔وید کا کلام ایک اور ضروری نشانی سے جو کلام الہی کے لئے لا بدی ولازمی ہے خالی ہے اور وہ یہ ہے کہ وید میں پیشگوئیوں کا نام و نشان نہیں اور وید ہر گز اخبار غیبیہ پر مشتمل نہیں ہے حالانکہ جو کتاب خدا کا کلام کہلاتی ہے اس کے لئے یہ ضروری بات ہے کہ خدا کے انوار اس میں ظاہر ہوں یعنی جیسے خدائے تعالیٰ عالم الغیب اور قادر مطلق بے مثل و بے ہمتا ہے ویسا ہی لازم ہے کہ اس کا کلام جو اس کی صفات کا ملہ کا آئینہ ہے صفات مذکورہ کو اپنی صورت حالی میں ثابت کرتا ہو ظاہر ہے کہ خدا کے کلام سے یہی علت غائی ہے کہ تا اس کے ذریعہ سے کامل طور پر خدا کی ذات اور صفات کا علم حاصل ہو اور تا انسان وجوہات قیاسی سے ترقی کر کے عین الیقین بلکہ حق الیقین کے درجہ تک پہنچ جائے اور ظاہر ہے کہ یہ مرتبہ علمی تب ہی حاصل ہو سکتا ہے کہ جب خدا کا کلام طالب حقیقت کو صرف عقل کے حوالہ نہ کرے بلکہ اپنی ذاتی تجلیات سے ہر یک عقیدہ (کذا۔عقدہ ) کو کھول دے مثلاً بہت سی پیشگوئیاں اور اخبار غیبیہ بیان کر کے اور پھر ان کا پورا ہو نا کھلا کر صفت عالم الغیبی کی جو خدائے تعالیٰ میں پائی جاتی ہے طالب حق پر ثابت کرے۔۔۔۔پھر یہ بھی جانا چاہئے کہ جن روحانی تاثیرات پر فرقان مجید مشتمل ہے ان سے بھی وید بکلی محروم اور تہیدست ہے۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ فرقان مجید با وجود ان تمام کمالات بلاغت و فصاحت و احاطہ حکمت و معرفت ایک روحانی تاثیر اپنی ذات بابرکات میں ایسی رکھتا ہے کہ اس کا سچا اتباع انسان کو مستقیم الحال اور منور الباطن اور منشرح الصدر اور مقبولِ الہی اور قابل خطاب حضرت عزت بنا دیتا ہے اور اس میں وہ انوار پیدا کرتا ہے اور وہ فیوض غیبی اور تائیدات لار یہی اس کے شامل حال کر دیتا ہے کہ جو اغیار میں ہر گز پائی نہیں جاتیں اور حضرت احدیت کی طرف سے وہ لذیذ اور دل آرام کلام اس پر نازل ہوتا ہے جس سے اس پر دمبدم کھلتا جاتا ہے کہ وہ فرقان مجید کی سچی متابعت سے اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیروی سے ان مقامات تک پہنچایا گیا ہے کہ جو