براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 65 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 65

براہین احمدیہ مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام محولہ بالا چاروں خطوط کو ایک بار پھر پڑھ جائے اُن میں کیا کہیں 1۔مولوی احمد حسن امر وہی کی کتاب تاویل القرآن کی اشاعت کے لئے بطور امداد سو روپیہ دینے کا 65 2 مولوی محمد علی صاحب کی پیغام محمدی کی کئی سو جلدوں کو خرید کر دکن میں تقسیم کرنے کا ذکر ہے ؟!! نہیں ! قطعاً نہیں !! تو مولوی عبد الحق صاحب ایسے محقق سے یہ نتائج کے استخراج میں بد حواسی کیوں سر زد ہوئی ہے؟ بات تو کر رہے ہیں حضرت مرزا صاحب کے متعلق اور اس میں مولوی احمد حسن امر و ہی اور مولوی محمد علی کی مالی امداد کا ذکر لے بیٹھے ہیں۔در اصل مولوی چراغ علی نے جیسی امداد حضرت مرزا صاحب کو دی وہ صرف دس روپے کا نوٹ تھاویسی ہی امداد دوسرے حضرات کو امداد بھیجوائی ہے جو مالی ہی ہے نہ کہ علمی ہے۔5۔مولوی عبدالحق صاحب نے حضرت مرزا صاحب کے پہلے خط کا آغاز یوں درج کیا ہے: “ آپ کا افتخار نامه محبت آمود عزور و دلایا۔"54 مولوی عبد الحق صاحب نے حضرت مرزا صاحب کے دوسرے خط کا آغاز یوں درج کیا ہے: آپ کے مضمون اثبات نبوت کی اب تک میں نے انتظار کی، پر اب تک نہ کوئی عنایت نامہ نہ مضمون پہنچا، اس لئے مکرر تکلیف دیتا ہوں۔۔۔55,, لیکن مولوی عبد الحق صاحب نے تیسرے خط کا آغاز یوں درج کیا ہے:۔“فرقان مجید کے الہامی اور کلام الہی ہونے کے ثبوت میں۔۔۔56 اور حضرت مرزا صاحب کے چوتھے خط کا اندراج مولوی عبدالحق صاحب نے یوں کیا ہے : کتاب ( براہین احمدیہ ڈیڑھ سو جز ہے۔۔۔" 57" کیا پہلے اور دوسرے خط میں آغاز کے الفاظ کا درج کرنا ضروری تھا؟ اور تیسرے اور چوتھے خط میں آغاز کے الفاظ کا حذف کرنا کیوں ضروری تھا ؟! راقم الحروف کی رائے میں دراصل یہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے دو خطوط لکھے گئے ہیں جن کو من مانے نتائج نکالنے کی خاطر مولوی عبد الحق صاحب نے نمبر 3 پر درج کردہ شرافت کی زبان استعمال کر کے اعتبار جما کر دھو کہ دیا ہے۔اگر پہلے خط کے ساتھ تیسرے کو شامل کر دیا جائے اور دوسرے کو چوتھے خط کے پہلے لگا دیا جائے تو نہ تو تسلسل مضمون و عبارت میں فرق پڑتا ہے اور نہ ہی آغاز کے الفاظ اور تاریخ مخطوط ( نشان دہی پیر انمبر 2، اسی طرح مدد طلب کرنا اور مدد دینا ” نشاندہی نمبر 1) کا مسئلہ اٹھتا ہے۔اس لئے مولوی عبد الحق صاحب کی اس دھوکہ دہی کو اُردو ادب کے حوالے سے جانچا جائے تو اسے جعل سازی کے زمرے میں شامل کیا جائے گا۔جیسے کہ ماہرین لکھتے ہیں: اگر جان بوجھ کر کسی خاص مقصد سے کسی اور کے نام سے کوئی تحریر لکھی جائے تو اسے جعل سازی کہا جائے گا۔"58 کیونکہ مولوی عبد الحق صاحب نے سوچے سمجھے چالا کی کے اقدام سے (جسے انگریزی میں Manoeuvering کہتے ہیں۔) دو خطوط کی عبارت کو من مانے نتائج اخذ کرنے کے لئے دھو کہ دہی سے چار خطوط میں بدل دیا ہے۔مولوی عبد الحق صاحب جو تدوین متن میں دسیوں کتابوں پر حاشیے چڑھا چکے ہیں اور اُن کی تغلیط بھی ہو گئی جن کا اِس مضمون میں ایک مقام پر ذکر بھی کیا گیا ہے۔ہندی کی چندی