براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 66 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 66

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق (بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 66 نکالتے نکالتے خود اپنے دام میں ایک بار پھر پھنس گئے ہیں۔خد اتعالیٰ نے اُن سے اس عمد أجسارت دھو کہ دہی، جعل سازی کا کیا سلوک کرتا ہے ؟ اس بارے میں ہم موصوف کے حق میں کوئی اچھی رائے قائم نہ کر سکنے پر مجبور ہیں۔6 مولوی عبد الحق زیر نظر خطوط کا رابطہ قائم کرنے کی خاطر ایک جگہ لکھتے ہیں ایک دوسرے خط میں فرماتے ہیں 59 اور دوسری جگہ تحریر لکھتے ہیں “ اس کے بعد ایک دوسرے خط مورخہ 10/ مئی 1879ء میں تحریر فرماتے ہیں ”مولوی صاحب نے خطوط چار درج کئے ہیں لیکن دو مقامات پر لکھتے ہیں کہ “ دوسرے ”خط میں، جبکہ موصوف کو پہلے، دوسرے، تیسرے اور چوتھے میں لکھنا چاہئے تھا۔لیکن آپ نے ایسے نہیں کیا جس سے ذہن اس طرف جاتا ہے کہ آپ نے دو خطوط کو چار خطوط بنا دیا ہے۔زیر نظر مضمون کے نمبر 2-4 میں بعنوان “زیر بحث خطوط حضرت مرزا صاحب اور مشفق خواجہ صاحب کے راقم الحروف کے نام مذکورہ خط میں موصوف نے بتایا تھا کہ انہوں نے خود مولوی عبد الحق سے ایک مرتبہ پوچھا تھا۔انہوں نے یہی بتایا تھا کہ یہ کاغذات مرحوم (مولوی چراغ علی۔ناقل) کے بھتیجے کی تحویل میں تھے۔وغیرہ وغیرہ۔مولوی عبد الحق صاحب کے بارے میں محولہ بالا نتائج کی روشنی میں یہی کہا جا سکتا ہے۔وہی قاتل 6 6 وہی منصف ٹھہرے وہی شاہد اقربا میرے کریں خون کا دعوی کس لیکن مولوی عبد الحق صاحب کی دھوکہ دہی کے دلائل خود ان ہی کے بنائے ہوئے فریب میں موجود ہیں جن کی نشان دہی اوپر کی گئی ہے۔علاوہ ازیں تصنیف و تالیف میں بھی بد دیانتی کا مظاہرہ کرتے تھے جس کی مثالیں بھی اس مضمون میں بتفصیل دی گئی ہیں۔ویسی ہی مثالوں میں زیر نظر مثال کا بھی اضافہ کر لیا جائے۔7۔اب اگر نمبر 4 پر دیئے گئے دلائل کی بناء پر خطوط کو دوبارہ ترتیب دیا جائے تو خطوط کی عبارت مقدمہ اعظم الکلام میں درج شدہ خطوط کے مطابق یوں بنے گی۔(واللہ اعلم): پہلا مکتوب حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی (بمطابق مقدمہ اعظم الکلام۔۔۔صفحہ 23 اور 25 جلد دوم) مورخہ 19 / فروری 1879ء بنام مولوی چراغ علی صاحب “ آپ کا افتخار نامہ محبت آمود۔۔۔عز ورو د لایا۔اگر چہ پہلے سے مجھ کو بہ نیت الزام خصم اجتماع براہین قطعیہ اثبات نبوت و حقیت قرآن شریف میں ایک عرصہ سے سر گرمی تھی مگر جناب کا ارشاد موجب گرم جوشی و باعث اشتعال شعلہ حمیت اسلام علی صاحبہ السلام ہوا اور موجب از یاد تقویت و توسیع حوصلہ خیال کیا گیا کہ جب آپ سا اولو العزم صاحب فضیلت دینی و دنیوی کا نہ دل سے حامی ہو، اور تائید دین حق میں دل گرمی کا اظہار فرمادے تو بلا شائبہ ریب اس کو تائید غیبی خیال کرنا چاہئے جزاکم اللہ نعم الجزاء۔۔۔ماسوائے اس کے اگر اب تک کچھ دلائل یا مضامین آپ نے نتائج طبع عالی سے جمع فرمائے ہوں تو وہ بھی مرحمت ہوں۔فرقان مجید کے الہامی اور کلام الہی ہونے کے ثبوت میں آپ کا مدد کرنا باعث ممنونی ہے نہ موجب ناگواری۔میں نے بھی اس بارے میں ایک چھوٹا سا رسالہ تالیف کرنا شروع کیا ہے اور خدا کے فضل سے یقین کرتا ہوں کہ عنقریب چھپ کر شائع ہو جائے گا۔آپ کی مرضی ہو تو وجوہات صداقت قرآن جو آپ کے دل پر القا ہوں میرے پاس بھیج دیں، تا اُسے رسالہ میں حسب موقع اندراج پا جائے یا