براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 64
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 4-11- خطوط سے مولوی عبد الحق صاحب کا اخذ کردہ نتیجہ اور اس پر تبصرہ 1۔مولوی عبد الحق صاحب نے ان چار خطوط کو درج کرنے سے قبل جو عبارت لکھی وہ یہ ہے: 64 “ اس موقعہ پر یہ واقعہ دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ جس وقت ہم مولوی صاحب مرحوم مولوی چراغ علی) کے حالات کی جستجو میں تھے تو ہمیں مولوی صاحب کے کاغذات میں سے چند خطوط مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مرحوم کے بھی ملے جو انہوں نے مولوی صاحب کو لکھے تھے اور اپنی مشہور اور پر زور کتاب براہین احمدیہ کی تالیف میں مدد طلب کی تھی۔47 جس میں مدد طلب کرنے کا تاکثر دیا ہے لیکن ان خطوط کے آخر پر لکھتے ہیں : “ ان تحریروں سے ایک بات تو یہ ثابت ہوتی ہے کہ مولوی صاحب مرحوم ( یعنی مولوی چراغ علی۔ناقل ) نے مرزا صاحب مرحوم کو براہین احمدیہ کی تالیف میں بعض مضامین سے مدد دی ہے۔48 یعنی مدد طلب کرنے سے بات کو شروع کیا ہے اور مدد دینے پر ختم کیا ہے۔دد 2۔پہلے دو خطوط میں خطوط کی تاریخ تحریر کا اندراج نہیں کیا لیکن تیسرے اور چوتھے خط میں 19 / فروری 1879ء اور 10/ مئی 1879ء کا اندراج کیا ہے۔مولوی عبد الحق صاحب جیسے مرتب متون کو یہاں خط پر تاریخ ندار دلکھنا چاہئے تھا۔3۔پہلے خط کے شروع میں مولوی عبد الحق صاحب نے حضرت مرزا صاحب کے متعلق لکھا: چنانچہ مرزا صاحب اپنے ایک خط میں کہتے ہیں 49 دوسرے خط کے شروع میں لکھا۔“ ایک دوسرے خط میں تحریر فرماتے ہیں " تیرے خط کے شروع میں لکھا: 50, “ ایک اور خط مورخہ 19 / فروری 1879ء میں تحریر فرماتے ہیں "51 اور چوتھے خط کے شروع میں لکھا ہے: اس کے بعد ایک دوسرے خط مورخہ 10 / مئی 1879ء میں تحریر فرماتے ہیں 52 4۔حضرت مرزا صاحب کے خطوط درج کر کے جو نتائج مولوی عبد الحق صاحب نے نکالے ہیں اُن میں سے ایک کا اندراج عنوان زیر نظر کے نمبر 1 میں درج کیا گیا ہے جبکہ دوسری بات جو موصوف ثابت کرنا چاہتے ہیں ملاحظہ ہو: مولوی عبدالحق صاحب کی ابتدائی عبارت کو درج کیا جاتا ہے جبکہ آگے کی عبارت کو اوپر درج کر دیا گیا ہے یعنی “ ان تحریروں سے ایک بات تو یہ ثابت ہوتی ہے کہ مولوی صاحب مرحوم۔۔۔دوسرے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب مرحوم کو حمایت و حفاظت اسلام کا کس قدر خیال تھا۔یعنے خود تو وہ یہ کام کرتے ہی تھے مگر دوسروں کو بھی اس میں مدد دینے سے دریغ نہ کرتے تھے۔چنانچہ جب مولوی احمد حسن صاحب امروہی نے اپنی کتاب تاویل القرآن شائع کی تو مولوی صاحب مرحوم نے بطور امداد کے سو روپیہ مصنف کی خدمت میں بھیجے۔اس طرح جو لوگ حمایت اسلام میں کتابیں شائع کرتے تھے ان کی کسی نہ کسی طرح امداد کرتے تھے اور اکثر متعد د جلدیں ان کتابوں کی خرید فرماتے تھے۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب کی کتاب پیغام محمدی کی کئی سو جلدیں خرید کر دکن میں تقسیم کر دیں۔"53