براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 63
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق (بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 63 ( اس خط میں جس کے بارے میں مولوی عبد الحق صاحب نے لکھا ہے کہ “ ایک دوسرے خط میں تحریر فرماتے ہیں۔39 حضرت مرزا صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ علاوہ اثبات نبوت حضرت پیغمبر علی تعلیم کے ہنود کے دید اور ان کے دین پر سخت سخت اعتراض کئے جائیں کیونکہ اکثر جاہل ایسے بھی ہیں کہ جب تک اپنی کتاب کا ناچیز اور باطل اور خلاف حق ہونا اُن کے ذہن نشین نہ ہو تب تک گو کیسی ہی خوبیاں اور دلائل حقانیت قرآن مجید کے اُن پر ثابت کئے جائیں۔اپنے دین کی طرفداری سے باز نہیں آتے۔۔۔تیر اخط 40", اس خط کا حوالہ دینے سے قبل مولوی عبد الحق صاحب تحریر کرتے ہیں : “ ایک اور خط مورخہ 19 / فروری ۱۸۷۹ء / 1879ء میں تحریر فرماتے 41 پہلے دونوں خطوط پر مولوی عبد الحق صاحب نے تاریخ کا اندراج نہیں کیا ہے۔) (vii) فرقان مجید کے الہامی اور (viii) کلام الہی ہونے کا ثبوت یہاں پر حضرت مرزا صاحب تحریر فرماتے ہیں: میں نے بھی اسی بارے میں ایک چھوٹا سا رسالہ تالیف کرنا شروع کیا ہے۔اور خدا کے فضل سے یقین کرتا ہوں کہ عنقریب چھپ کر شائع ہو جائے گا 12 پھر فرماتے ہیں کہ آپ کی اگر مرضی ہو تو وجوہات صداقت قرآن جو آپ کے دل پر القاہوں میرے پاس بھیج دیں، تا اُسے رسالہ میں حسب موقع اندراج پا جائے یا سفیر ہند میں۔۔۔13 ایسے لگتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے یہاں جس چھوٹے سے رسالے کی تالیف شروع کرنے کا ذکر کیا ہے۔وہ براہین احمدیہ میں ہی ضم ہو گیا ہو گا اور حضرت مرزا صاحب نے اس امر کو مولوی چراغ علی صاحب کی مرضی پر چھوڑ دیا ہے چاہے وہ آپ کے پاس بھجوادیں یا اخبار “سفیر ہند امر تسر میں چھپوا دیں اور اگلے فقرات کو مولوی عبد الحق صاحب نے نقطے لگا کر چھوڑ دیا۔اس کے بعد اس خط میں حضرت مرزا صاحب تحریر فرماتے ہیں: میں اُس دن بہت خوش ہوں گا جب میری نظر آپ کے مضمون پر پڑے گی”۔گویا اس وقت تک مولوی چراغ علی صاحب نے مطلوبہ مضمون نہیں بھجوایا اور نہ ہی یہ معلوم ہو سکا کہ بعد میں اخبار “سفیر ہند امر تسر میں بھی بھجوایا / چھپوایا گیا یا نہیں؟ اسی خط میں حضرت مرزا صاحب نے مولوی چراغ علی صاحب پر واضح کیا ہے کہ آپ کا مدد کرنا باعث ممنونی ہے نہ کہ موجب ناگواری 44 جس کے بارے میں حضرت مرزا صاحب نے اس خط میں تحریر فرمایا ہے کہ میں اُس دن بہت خوش ہوں گا جب میری نظر آپ کے مضمون پر پڑے گی”۔چوتھا خط اس خط کا حوالہ دینے سے قبل مولوی عبد الحق صاحب تحریر کرتے ہیں “ اس کے بعد ایک دوسرے خط مورخہ 10 / مئی ۱۸۷۹ء / (1879ء) میں تحریر فرماتے ہیں "۔15 اور اس کے بعد مولوی عبد الحق صاحب جس خط کا اندراج کرتے ہیں وہ پورے دو / اڑھائی سطر بھی نہیں بنتے۔جو درج ذیل ہے: کتاب (براہین احمدیہ) ڈیڑھ سو جز ہے جس کی لاگت تخمیناً نو سو چالیس روپیہ ہے ، اور آپ کی تحریر محققانہ ملحق ہو کر اور بھی زیادہ ضخامت ہو جائے گی۔"46