براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 59 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 59

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 59 کو ساتھ ساتھ اور زیادہ مکمل فرماتے جاویں اور اسکے شروع میں ایک مقدمہ لگائیں اور بعض اور تمہیدی باتیں لکھیں اور ساتھ ساتھ ضروری حواشی بھی زائد کرتے جاویں۔چنانچہ اب جو براہین احمدیہ کی چار جلدیں شائع شدہ موجود ہیں ان کا مقدمہ اور حواشی وغیرہ سب دوران اشاعت کے زمانہ کے ہیں اور اس میں اصل ابتدائی تصنیف کا حصہ بہت ہی تھوڑا آیا ہے یعنی صرف چند صفحات سے زیادہ نہیں اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ تین سو دلائل جو آپ نے لکھے تھے ان میں سے مطبوعہ براہین احمدیہ میں صرف ایک ہی دلیل بیان ہوئی ہے اور وہ بھی نا مکمل طور پر۔ان چار حصوں کے طبع ہو نے کے بعد اگلے حصص کی اشاعت خدا کے تصرف کے ماتحت رک گئی اور عنا جاتا ہے کہ بعد میں اس ابتدائی تصنیف کے مسودے بھی کسی وجہ سے جل کر تلف ہو گئے۔" 28 مولوی عبد الحق صاحب کے خطوط سے مستخرجہ نتائج اس طور بھی غلط ثابت ہوتے ہیں۔اس کے ثبوت میں براہین احمدیہ میں درج شدہ چند واقعات جو تاریخ کے ساتھ درج ہیں پیش کئے جاتے ہیں :۔اول: حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی براہین احمدیہ حصہ سوم کے صفحہ 238 بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر 1 میں لکھتے ہیں کہ اس الہام کی مثالیں ہمارے پاس بہت ہیں لیکن وہ جو ابھی اس حاشیہ کی تحریر کے وقت یعنی مارچ 1882ء میں ہوا ہے۔جس میں یہ امر غیبی بطور پیشگوئی ظاہر کیا گیا ہے اس اشتہاری کتاب کے ذریعہ سے اور اس کے مضامین پر مطلع ہونے سے انجام کار مخالفین کو شکست فاش آئے گی۔۔الآخر یہ حاشیہ در حاشیہ صفحہ 217 سے صفحہ 267 تک چلا گیا ہے کم از کم اس مقام کی تحریر کی تاریخ مہینے کے لحاظ سے مارچ 1882ء ہے۔دوم: حاشیہ در حاشیہ نمبر 2 میں اس حصہ کے صفحہ 268 پر پرچہ نور افشاں ” 3 مارچ 1882ء کے ایک اعتراض کا جواب دیا گیا ہے اس سے ظاہر ہے کہ بہر حال یہ تحریر 3 مارچ 1882ء کے یقیناً بعد کی ہے یہ حاشیہ در حاشیہ نمبر 2 صفحہ 306 تک چلا گیا ہے۔سوم: صفحہ 349 حاشیہ نمبر 11 میں پنڈت شو نرائن اگنی ہوتری کے اخبار “ دہرم جیون ” جنوری 1883ء میں شائع کردہ اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے اور یہ حاشیہ نمبر 11 حصہ سوم کے شروع سے شروع ہو جاتا ہے (صفحہ 141 حصہ سوم ) اور حصہ چہارم کے اخیر تک برابر چلا جاتا ہے۔یہ بات ضرور اس سے پتہ چلتی ہے کہ یہ صفحہ 349 جنوری 1883ء کے بعد لکھا گیا ہے۔چهارم: حاشیه در حاشیہ نمبر 2 صفحہ 475 پر یکم اپریل 1883ء کا ایک واقعہ درج ہے۔غرض اس طرح پر متعدد مقامات پر بعض تاریخوں کے حوالے آتے ہیں ان سب سے بہ حیثیت مجموعی نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ 1879ء میں یہ سب مسودہ تیار نہ تھا۔29 لہذا یہ امر ثابت ہو گیا کہ مولوی عبد الحق صاحب کے خطوط مندرجہ اعظم الکلام سے نکالے گئے نتائج، واقعاتی شہادتوں سے غلط ثابت ہوتے ہیں۔جن مقامات کو اوپر درج کیا گیا ہے یہ بطور مثال وہ مقامات ہیں جہاں کسی واقعہ کو تاریخ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔جن کو اس تاریخ سے پہلے نہیں لکھا گیا تھا۔جبکہ حواشی تصنیف کے وقت ہی لکھے گئے تھے۔کیونکہ حواشی کا مضمون اس قدر مسلسل اور مربوط اور طویل ہے کہ وہ بجائے خود ایک مستقل تصنیف / مضمون ہے۔اس لئے متن (بمع حواشی ) جب آپ نے لکھ لیا تو جب مسودہ (Manuscript) مبینہ (clean copy) به الفاظ دیگر (opposite of Manuscript 20 ہو کر کاتب کے سپرد کیا جانے لگا تو حواشی کا اضافہ کیا گیا جن میں سنین درج ہیں۔اس کی صراحت صاحبزادہ پیر منظور محمد صاحب (مصنف قائدہ پیسر نا القرآن ) جو حضرت اقدس کے سالہا سال