براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 55 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 55

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 55 ہیں۔جبکہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی کتاب بقول مولوی عبد الحق ایک پر زور اور مشہور کتاب ہے۔( اور مولوی چراغ علی کی تحریر میں گرمی نہیں سردمہر منطقی یا کائیاں دنیا دار ہیں لیکن ساتھ ساتھ کتاب کو پر زور دلائل اور جامع کتاب بھی بتاتے ہیں !)12اس تناظر میں مدد دینے والا معاملہ بعید از قیاس ہے۔اور ان مقامات کی نشان دہی کی جائے جن سے مدد لینا ثابت کیا جا سکے تو ڈاکٹر سید عبد اللہ صاحب کی طرف سے باوجو د یاد دہانی کے کوئی جواب نہ ملا۔اسی مفہوم کو قاضی جاوید صاحب نے ڈاکٹر سید عبد اللہ سے لے کر اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔12 مر اسلاقی رابطے پر جب ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہ ہو ا تو ذاتی طور پر قاضی جاوید صاحب سے ملاقات کی گئی تو موصوف نے کہا کہ پہلے میرے یہی خیالات تھے مگر اب نہیں ہیں۔یہ تو زبانی معاملہ ہوا ان کی طرف سے تحریری طور پر ایسا کوئی مضمون نظر سے نہیں گزرا اور ان کے قارئین کے ذہن میں اُن کی اسی تحریر کا تاثر موجود رہے گا تاوقتیکہ ان کی طرف سے ایسے ہی کسی مضمون سے تردید نہ ہو۔4-6- حضرت مرزا صاحب کے پیش کردہ خطوط کے مندرجات کا جائزہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے مکمل خطوط پیش نظر نہ ہونے کے باعث تحریر کے سیاق و سباق کا پتہ نہیں چل سکتا۔جو خطوط سے اقتباس دیئے گئے ہیں وہ اس نیت سے دیئے گئے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب کا براہین احمدیہ میں مد دلینا ثابت کیا جائے۔اس لئے ان خطوط کے اقتباسات پر کچھ بھروسہ نہیں پھر بھی ہم ان خطوط کو مولوی عبد الحق صاحب کے بقول درست سمجھتے ہوئے تنقیدی نظر سے دیکھتے ہیں تو پہلے ہی اقتباس میں اس امر کا پتہ چلتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے کتاب کے لئے مدد طلب نہیں کی کیونکہ حضرت مرزا صاحب تو لکھ رہے کہ ہیں کہ “ آپ کا افتخار نامہ محبت آمود۔۔۔۔عزور و دلایا۔” الخ 14 یعنی مولوی چراغ علی صاحب کا خط حضرت مرزا صاحب کو پہنچا جس میں مولوی چراغ علی صاحب نے حضرت مرزا صاحب کو بعض امور کی جانب توجہ دلائی۔نہ کہ حضرت مرزا صاحب نے مدد طلب کی۔اس بات سے ہی مولوی عبد الحق صاحب کا قیاس نہ صرف غلط ثابت ہوتا ہے بلکہ قیاس مع الفارق ٹھہرتا ہے۔بلکہ حضرت مرزا صاحب کی فوقیت ثابت ہوتی ہے کہ مولوی چراغ علی صاحب آپ کو اس بارے میں اپنے عجز کو فی الواقعہ ظاہر کرتے ہوئے آپ کو اس پر لکھنے کی توجہ دلاتے ہیں اور جہاں آپ نے مولوی صاحب کو لکھنے کو کہا ہے وہ فقط مولوی چراغ علی صاحب کی دلداری ہی کہی جاسکتی ہے جبکہ آپ کے اس خط کے الفاظ کے مطابق “ اگر چہ پہلے سے مجھے بہ نیت الزام خصم اجتماع بر این قطعیہ اثبات نبوت و حقیت قرآن شریف میں ایک عرصہ سے سر گرمی تھی مگر جناب کا ارشاد موجب گرم جوشی و باعث اشتعال شعله حمیت اسلام علی صاحبہ السلام ہوا اور موجب از یاد تقویت و توسیع حوصلہ خیال کیا گیا۔جب آپ سا اولو العزم صاحب فضیلت دینی و دنیوی ته دل سے حامی ہو ، اور تائید دین حق میں دل گرمی کا اظہار فرمادے تو بلا شائبہ ریب اس کو تائید غیبی خیال کرنا چاہئے۔جزاکم اللہ نعم الجزاء۔15 اس فقرہ کے بعد مولوی صاحب نے چند ڈیش ڈال کر اگلے فقرے کو شروع کیا ہے۔افسوس ہے کہ مولوی عبد الحق صاحب نے مکتوبات کو تمام و کمال درج نہیں کیا ورنہ ان امور پر کافی روشنی پڑ سکتی تھی۔جس قدر اقتباس دیا ہے اس سے بھی یہ بات بخوبی پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ براہین احمدیہ کی تصنیف میں کوئی علمی امداد مولوی چراغ علی صاحب نے نہیں دی بلکہ مولوی چراغ علی صاحب نے براہین احمدیہ کی تصنیف کے بارے میں خط لکھا اور اس میں اعانت کتاب کا وعدہ کیا ہے حضرت مرزا صاحب نے اس کے جواب میں جو خط لکھا اس میں دلائل یا مضامین وغیرہ کے بھیجنے کا بھی ذکر کیا یعنی ماسوائے اس کے اگر اب تک کچھ دلائل یا مضامین آپ نے نتائج