براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 54 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 54

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 54 مرزا ظفر الحسن صاحب اپنے ایک اور عنایت نامہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ “مولوی چراغ علی کی ایک بہو بیگم عزیز علی کراچی میں کہیں مقیم ہیں۔مولوی صاحب کے ایک پوتے سید معراج علی پیر الہی بخش کالونی میں رہتے ہیں۔نشر گاہ حیدر آباد کے بانی سید محبوب علی صاحب تھے اور کئی برس پہلے ان کا انتقال ہو گیا۔۔۔۔بیگم عزیز اور معراج علی۔۔۔۔نے مولوی چراغ علی کو دیکھا تک نہیں۔میر امولوی محبوب علی صاحب کے گھر بہت آنا جانا تھا کیونکہ نشر گاہ اُس گھر میں تھی، محبوب علی صاحب اس کے ناظم اور میں اس نشر گاہ میں جز وقتی کار کن تھا۔اس گھر میں میں نے کبھی مولوی چراغ علی کا نام تک نہیں سنا۔اس گھر میں علم وادب کا کوئی چر چانہ تھا اس لئے مولوی چراغ علی کے سارے اثاثے مٹ چکے تھے۔” 9" مولوی چراغ علی صاحب کے پوتے معراج علی کے بارے میں مرزا ظفر الحسن صاحب نے لکھا کہ: "معراج علی کا پتہ درج کر رہا ہوں مگر ان کی طرف سے کسی حوصلہ افزاء جواب کی توقع نہ رکھئے گا۔سید معراج علی (1108) پیر الہی بخش کالونی کراچی۔10 اور جب سید معراج علی صاحب سے بذریعہ خط رابطہ کیا گیا تو مرزا ظفر الحسن کی توقعات کے مطابق کوئی جواب نہ ملا۔لیکن را قم الحروف نے لمبے لمبے و قفوں سے خط و کتابت کے ذریعہ تلاش جاری رکھی بالآخر فروری 2011ء میں عزیزہ مکرمہ مقصودہ صہبا(سلام ) دختر جناب صہبا لکھنوی مرحوم (مدیر ماہنامہ "افکار") کے توسط سے مولوی چراغ علی کے پڑ پوتے علی آصف سے رابطہ ہو گیا۔موصوف مولوی چراغ علی کے سب سے بڑے بیٹے سراج علی (1948-1876) کے پوتے ہیں۔ان کے والد کا نام معراج علی ولد سراج علی تھا۔علی آصف سے صرف اس سلسلہ نسب کی تصاویر میسر آسکی ہیں۔اور مولوی چراغ علی کے بیٹے محبوب علی کی دستخط شدہ کتاب (1945 حیدر آباد) چند ہم عصر " نوشته مولوی عبدالحق مرتبه شیخ چاند مرحوم کے مولوی چراغ علی سے متعلق صفحات کی عکسی نقول ملی ہیں۔علاوہ ازیں اُن کے پاس خطوط وغیرہ کسی قسم کا سراغ نہیں ملا ہے۔اور نہ ہی اُن کے پاس مولوی چراغ علی کے کسی قسم کے کاغذات ہیں۔اللہ تعالی دختر موصوف اور جناب علی آصف صاحب (پڑپوتا مولوی چراغ علی مرحوم) کو اس مدد کی جزائے خیر عطا کرے۔(آمین) 4-4- خطوط کے حصول کی آخری ممکنہ جاری کوشش ماضی قریب میں ڈاکٹر منور حسین، لیکچرر شعبہ اُردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی کتاب موسومہ "مولوی چراغ علی کی علمی خدمات "شائع کردہ خدا بخش اور مینٹل پبلک لائبریری پٹنہ (انڈیا) مطبوعہ 1997ء سے مولوی چراغ علی کے مخطوطات کا علم ہوا ہے۔متعلقہ مقامات سے رابطہ کیا گیا شاید وہاں سے یہ خطوط مل سکیں۔اور خطوط کا مکمل متن سامنے آسکے۔لیکن وہاں سے کوئی جواب نہ ملا۔البتہ حیدر آباد دکن میں مقیم ایک بزرگ دوست جناب سید جہانگیر علی صاحب مد ظلہ کے توسط سے یہ تلاش اب بھی جاری ہے۔4-5- حضرت مرزا صاحب کے خطوط کو نقل کرنے والے مصنفین ڈاکٹر سید عبد اللہ ، قاضی جاوید وغیرہ سے رابطہ خطوط زیر بحث کا مکمل متن کہیں سے دستیاب نہ ہوا تو ان خطوط کو اپنی تحریروں میں استعمال کرنے والے مصنفین سے رابطہ کیا گیا ان میں سے ڈاکٹر سید عبد اللہ صاحب نے ایبٹ آباد سے لکھا فرض کیجئے کہ براہین احمدیہ میں مولوی چراغ علی نے کچھ تعاون بھی کیا ہو تو اس میں کیا خاص قباحت ہے۔دنیا میں بڑے سے بڑے مصنف ایک دوسرے سے استفادہ کرتے ہیں اگر چراغ علی نے کچھ تعاون کر دیا تو اس میں مضائقہ کیا ہے۔بہر حال میں لاہور پہنچ کر 8 / اگست کے بعد اپنی کتاب کو دوبارہ دیکھ کر کچھ عرض کر سکوں گافی الحال میں کوئی قطعی رائے دینے سے قاصر ہوں۔” 11 جس عمومی امر کا ذکر ڈاکٹر سید عبد اللہ نے کیا ہے اس سے ہمیں اختلاف نہیں ہے۔مگر جب ان سے ان کی اپنی ہی تحریروں کے حوالے سے دریافت کیا گیا کہ بقول ان کے مولوی چراغ علی کی کتابیں غیر مقبول اور قابل ذکر نہیں وو