براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 31
براہین احمدیہ مولوی عبدالحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام اپنے وطن چلے گئے۔"48 31 یہ ہم مکتب ہونے کی بے تکلفی تھی جس کے باعث ظفر علی خان، مولوی عبد الحق صاحب کا لکھا ہوا مقدمہ “معرکہ مذہب و سائنس " لے اُڑے تھے۔اگر چہ مولوی عبد الحق صاحب کو یہ پسند نہ تھا۔چاہئے تو یہ تھا کہ مولوی ظفر علی خان اس مقدمے میں دیئے گئے خیالات پر اپنی بھی رائے درج کرتے لیکن انہوں نے جیسے اسے درج کر کے اس سے اتفاق کیا ہو مثلاً اس مقدمے کے چوتھے پیرے میں مولوی عبد الحق صاحب“ خدا کے خیال کی اصل ” کی بابت لکھتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ انسان ہی ہے کہ جس نے خدا کو دریافت کیا ہے ! ملاحظہ ہو: “ انسان معلوم سے غیر معلوم کو دریافت کرتا ہے۔اس لیے اس نے اس قوت کو جو نیچر میں پائی جاتی ہے اپنی قوتِ ارادہ کے مثل سمجھا تو اُس کا ایسا سمجھنا جائز ہے۔جب اس نے ایسے معلومات دیکھے جن کی علل کو وہ نہیں بتا سکا تو انہیں ایک ایسی قوت مختار سے منسوب کرنا جو مادے کے اندر اور باہر ہے بالکل جائز ہے۔یہی خدا کے خیال کی اصل ہے۔اب خواہ خدا بہت سے ہوں اور درختوں ، دریاؤں ، پہاڑوں، بادلوں اور ہو اؤں میں ہوں خواہ ایک علت اعلیٰ جو کائنات کا خالق اور قائم رکھنے والا ہے۔اس مسئلے میں بنی نوع انسان کے عام اتفاق کو گزشتہ زمانے کے الہام کے ثبوت میں پیش کیا جاتا ہے۔لیکن اصل یہ ہے کہ اکثر اقوام ایک ہی صغری کبری سے ایک ہی نتیجے پر پہنچی ہیں۔الہام انسان کی ذات اور اصولِ علت معلوم کی صداقت کے یقین میں ہے یہ الہام ہر ذی عقل پر ہو تا ہے۔49 گویا مولوی عبدالحق صاحب کے نزدیک خدا کی اصل مادہ ہے اور اس میں خالق اور قائم رکھنے والے کا اضافہ کر کے مولوی صاحب موصوف نے خدا تعالیٰ کی ذات والا صفات کا کھوج لگا لیا اور اُس کے الہام کو ہر ذی عقل کے اپنے خیالات پر محمول کر کے کلام الہی کا انکار کر دیا۔ہم نے ان جیسے امور سے ہی اندازہ لگایا ہے کہ مولوی عبد الحق صاحب نے براہین احمدیہ کا مطالعہ کرنے کی تکلیف ہی گوارا نہیں کی ہے۔اگر مولوی صاحب حضرت مرزا صاحب کی کتاب براہین احمدیہ کا مطالعہ کرتے تو جو خیال مرضی ہے رکھا کریں لیکن اس کا ذکر کرنا اُن پر لازم تھا کہ :۔یہ وسوسہ کہ جس قدر نبی آئے وہ بلاشبہ کلام الہی کے نازل ہونے سے پہلے خدا پر یقین رکھتے تھے۔پس اس سے ثابت ہے کہ وہ یقین انہیں کی فطرت اور عقل سے ان کو حاصل ہو ا تھا۔لیکن واضح ہو کہ یہ وسوسہ محض قلت تدبر سے ناشی ہے کیونکہ اس یقین کا باعث کسی طور سے مجرد عقل اور فطرت نہیں ہو سکتے۔انبیاء کسی جنگل میں اکیلے پیدا نہیں ہوئے تھے تا یہ کہا جائے کہ انہوں نے الہام پانے سے پہلے بذریعہ سلسلہ سماعی بھی جس کی الہام الہی سے بنیاد چلی آتی ہے۔خدا کا نام نہیں سنا تھا اور صرف اپنی فطرت اور عقل سے خدا کے وجود پر یقین رکھتے تھے بلکہ بہ بداہت ثابت ہے کہ خدا کے وجود کی شہرت اس کلام الہی کے ذریعہ سے دنیا میں ہوئی ہے کہ جو ابتدا زمانہ میں حضرت آدم پر نازل ہوا تھا۔پھر بعد حضرت آدم کے جس قدر انبیا وقتا فوقتا زمانہ کی اصلاح کے لئے آتے رہے۔ان کو قبل از وحی خدا کے وجود سے یاد دلانے والی وہی سماعی شہرت تھی جس کی بنیاد حضرت آدم کے صحیفہ سے پڑی تھی۔پس وہی سماعی شہرت تھی جس کو نبیوں کی مستعد اور پر جوش فطرت نے فی الفور قبول کر لیا تھا۔اور