براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 30 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 30

براہین احمدیہ مولوی عبدالحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 30 لکھنے والے کو تو یہ مقدمہ پسند ” نہیں۔لیکن مولوی محمد حبیب الرحمن خان صاحب شروانی مقدمہ اعظم الکلام کا ذکر کر کے لکھتے ہیں: جن اصحاب کو مولوی صاحب کے خیالات بالا سے غصہ آئے ( یعنی مقدمہ اعظم الکلام سے۔ناقل ) وہ ان کو ملحد بنانے میں جلدی نہ کریں اور میرے اوپر کرم فرما کر معرکہ مذہب و سائنس کا مقدمہ غور سے حرف بہ حرف پڑھ لیں " 45 لیں" (نوٹ: یعنی بقول شیر وانی صاحب مقدمہ اعظم الکلام ملحدانہ خیالات سے مملو ہے) شروانی صاحب خود بیان کرتے ہیں کہ مولوی نذیر احمد خان صاحب مرحوم کے رسالہ امہات الامہ جلائے جانے کے واقعہ میں : “رسالے جلائے گئے۔مٹی کا تیل لاکر دو بجے رات کو جس نے رسالوں پر ڈالا وہ میں ہی تھا۔اتفاق یہ کہ جلانے کے بعد آندھی نے خاکستر اُڑا دی، بارش نے جگہ صاف کر دی۔اس طرح " ہلاس " سونگھنے کا موقع کسی کو نہ مل سکا 46 ان ہی صاحب کے متعلق مولوی عبد الحق صاحب“ حیات النذیر ” کے مقدمہ میں لکھتے ہیں: بیکری موقوف کرادی تھی۔(کتابیں) منگوائیں اور اپنے سامنے ان کتابوں کا ڈھیر لگوایا اور ان میں سے ایک مولوی نے زیادہ تر ثواب کمانے کے لیے آگے بڑھ کر مٹی کا تیل چھڑ کا اور بسم اللہ کہہ کر آگ لگا دی۔اُس کے شعلوں کی روشنی مولویوں کے مقدس چہروں پر پڑرہی تھی اور اُن کی آنکھوں کی چمک اور چہروں کی بشاشت سے اس خوف ناک دلی مسرت اور باطنی اطمینان کا اظہار ہو رہا تھا جو ایک خوں خوار درندے یاسنگ دل انسان کی صورت سے انتقام لیتے وقت ظاہر ہوتا ہے۔اگر حکومت کا ڈر نہ ہو تاتو مولانائے مرحوم بھی اس آگ میں جھونک دیئے جاتے۔یہ منظر قابل دید تھا، مولویوں کا یہ حلقہ زمانہ وسطی کے اُن پادریوں کی یاد دلاتا تھا جنہوں نے کتابیں تو کتا بیں ہزاروں بے گناہ انسان زندہ دہکتی آگ میں جھونک دیئے ، کڑ کڑاتے تیل کے کڑا ہوں میں ڈال دیے، گلوں میں پتھر باندھ کر بہتے دریاؤں میں ڈبو دیئے ، کتوں سے پھڑ وادیئے اور طرح طرح کے عذاب دے دے کر اور عجیب و غریب شکنجوں میں کس کس کر سکا سکا کر مار ڈالے۔اُن کے سامنے راکھ کا ڈھیر ایک تو وہ عبرت تھا جو بیسویں صدی عیسوی کے روشن زمانے کی ایک عجیب یاد گار تھا، یہ راکھ اس قابل تھی کہ اس کی ایک ایک چٹکی بہ طور ایک یاد گار کے شیشوں میں بند کر کے رکھ لی جاتی تا آئندہ نسلیں اسے سامنے رکھ کر ان علمائے کرام و مصلحان ملک و ملت کی ارواح پاک پر فاتحہ دلاتیں اور ان کے حق میں دعائے خیر کرتیں۔اس رات گویا مولویوں نے شب برات منائی اور اس آگ سے اپنے نفوس مطمئنہ کو ٹھنڈا کیا اور اپنے اعمال ناموں میں ایک ایسی بڑی نیکی کا اضافہ کیا جو غالباً ان کی نجات اخروی کا باعث ہو گی۔یہ اُن بزرگوں کا کام ہے جنہوں نے چشم بد دور مسلمانوں کی دینی و دنیوی اصلاح و فلاح کا بیڑا اٹھایا ہے۔47 ایک مقام پر مولوی عبد الحق صاحب لکھتے ہیں: “سید محفوظ علی نے مدرستہ العلوم مسلمانان ایم۔اے او کالج علی گڑھ میں تعلیم پائی۔بی۔اے میں سید صاحب، ظفر علی خان، حافظ ولایت اللہ اور راقم الحروف (مولوی عبد الحق ) سب ساتھ۔1895ء میں تعلیم سے فارغ ہو کر