براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 18 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 18

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 18 کراچی سے ستمبر 1995ء میں “ ہم سفر ” کے نام سے شائع ہوئی اور اس کے صفحہ نمبر 232 پر یہ حوالہ درج ہے۔اس کا پیش لفظ بعنوان “ یہ کتاب ” جناب مشفق خواجہ نے لکھا اور اس پر نظر ثانی مضمون کے لکھے جانے کے دوران جمیل جالبی کرتے رہے "۔مشفق خواجہ سے راقم الحروف کی خط و کتابت کا ذکر زیر نظر کتاب کے باب چہارم میں 2-4 پر کیا گیا ہے۔موصوف مولوی عبد الحق کے بہت قریبی معاونین ورفقاء میں سے تھے۔روزنامہ “ امروز ” لاہور میں مطبوعہ اظہر جاوید کے کالم محفل محفل ” 18 کی طرف جب شان الحق حقی صاحب کو توجہ دلائی گئی جس میں اظہر جاوید نے لکھا تھا کہ اردو لغت پر آج تک جتنا ٹھوس اور واضح کام ہو ا ہے وہ ان کے والد مرحوم نے کیا ہے جس پر مولوی عبد الحق نے خواہ مخواہ اپنا لیبل لگایا۔حقی صاحب نے اس سے بھی زیادہ سخت الفاظ استعمال کئے تھے۔تو شان الحق حقی صاحب نے لکھا کہ “ انہوں نے یہ بات صحیح نہیں لکھی کہ میں نے حضرت مولوی عبد الحق صاحب مرحوم کی بابت سخت الفاظ استعمال کئے تھے۔میں نے مولوی صاحب موصوف کا احترام ہمیشہ ملحوظ رکھا ہے۔کوئی الزام تراشی نہیں کی۔البتہ حقائق جو روشن تھے ضرور بیان کئے تھے۔ان میں الزام دہی کا پہلو نہیں تھا کیونکہ میں اپنے والد صاحب کی حیات اور اپنے بچپن کے زمانے سے مولوی صاحب کا بہت ادب کر تا تھا۔” آپ کی خدمت میں گلدستہ نگارش کا ایک نسخہ ارسال ہے جس میں اس لغت کا تذکرہ ہے۔یہ میری بیوی کی تالیف ہے۔والد صاحب مرحوم ناداں دہلوی کی بابت مفصل معلومات اور ان کی لغت نگاری کا حال میری کتاب نکتہ راز ” میں درج ہے۔19 نکتہ راز ” میں موصوف نے صرف اتنا لکھنے پر اکتفا کیا کہ “ دونوں بزرگ اب وہاں ہیں جہاں انہیں اس معاملہ سے ذرا بھی سروکار نہیں۔اور لکھا کہ مضمون “ ناداں دہلوی مطبوعہ “ ساقی ” فروری 1946ء حضرت مولوی عبدالحق صاحب کی نظر سے گذر چکا تھا جو ان دنوں دہلی ہی میں تھے اور انہوں نے مجھے سے یا شاہد صاحب ( شاہد احمد دہلوی) سے اس کی بابت کوئی شکایت نہیں کی تھی۔20 مذکورہ بالا کتاب “گلدستہ نگارش ” میں اس عنوان کے تحت مولوی احتشام الدین مرحوم اور انجمن ترقی اردو کی لغت ”شاہد احمد دہلوی مدیر ساقی کا ایک اداریہ شامل ہے۔جس میں شاہد صاحب نے مولوی احتشام الدین کی سالہا سال کی دیدہ ریزی کا بچشم خود دیکھا ہوا تذکرہ کیا جو آپ نے اردو لغت کے لئے کی۔اداریہ مذکور کے آخر پر موصوف نے لکھا کہ :۔“مولوی صاحب (احتشام الدین ) اپنے شاندار کارنامے کو اپنی نگرانی میں شائع نہ کر اسکے۔ان کے انتقال کو اب دو مہینے ہوتے ہیں اور لغت کی پہلی جلد کاغذ پر بھی نمودار ہونے والی ہے۔انجمن ترقی اردو کے پندرہ روزہ اخبار " ہماری زبان ” اور انگریزی اخبار ڈان ” میں یہ دیکھ کر ہماری حیرت کی انتہانہ رہی کہ لغت کے اعلان اشاعت کے ساتھ مولوی صاحب مرحوم ( مولوی احتشام الدین کا ) کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ہمیں نہیں معلوم کہ اس خبر کے مصنف کون صاحب ہیں؟ لیکن اس کا ہمیں پورا یقین ہے کہ ڈاکٹر عبد الحق مولوی صاحب مرحوم (ڈاکٹر عبد الحق سے مراد، بابائے اردو مولوی عبد الحق ہے اور مولوی صاحب سے مراد مولوی احتشام الدین والد شان الحق حقی ہیں۔راقم الحروف) کو ان کے حق سے محروم نہیں کریں گے۔لغت کے سلسلے میں مولوی صاحب کا تذکرہ نہ کرنا ایک حیرتناک بوالعجی اور شرمناک فرو گذاشت ہے۔ڈاکٹر عبد الحق صاحب سے ہماری درخواست ہے کہ جب لغت شائع ہو تو انجمن کے ان حق ناشناس کارکنوں کے اہلہانہ مشوروں پر عمل نہ کریں جو مولوی صاحب مرحوم کے اس زندہ جاوید کارنامہ کے سرورق سے ان کا نام حرف غلط کی طرح مٹا دینا چاہتے ہیں۔لغت پر مولوی احتشام الدین کا نام مرتب کی حیثیت سے اور ڈاکٹر عبد الحق کا نگر ان کی حیثیت سے شائع ہونا چاہئے۔اس حقیقت کے ہزاروں گواہ ہیں اور اس کے استخفاف سے ناگوار نتائج پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔امید ہے کہ ڈاکٹر صاحب