براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 17 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 17

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 15" 17 اس موضوع پر سند (اتھارٹی) تسلیم کئے جاتے ہیں۔مولوی عبد الحق صاحب نے کتاب مذکور کے دیباچہ میں محولہ بالا امر یوں لکھا“ بعض مضامین جو انہیں نہیں ملے تھے وہ میں نے دوسرے ذرائع سے بہم پہنچائے۔ان مضامین کے حاشیے بھی شیخ صاحب ہی کے لکھے ہوئے ہیں۔میں نے نظر ثانی کرتے وقت حسب ضرورت کہیں کہیں کمی بیشی کر دی ہے۔ورنہ یہ سب کام انہیں کا کیا ہوا ہے۔” ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر مرحوم نے ایک زمانے میں مولوی عبد الحق صاحب کی مرتب کردہ انگلش ڈکشنری کا تیا پانچا کیا تھا اور مضمون کے صفحوں کے صفحے رد کرتے ہوئے لکھا تھا کہ مولوی صاحب کو انگریزی زبان کی شد بد تو خیر ہے ہی نہیں اردو پر بھی عبور نہیں۔یہ مضمون تاثیر کی کتاب نثر تاثیر میں موجود ہے اور اہل علم جانتے ہیں کہ تاثیر مرحوم انگریزی کے فاضل اور اردو زبان کے صاحب طرز شاعر اور دانشور تھے۔یہ ڈکشنری دی اسٹینڈرڈ انگلش اردو ڈکشنری کے نام سے مشہور ہے۔اس کے متعلق تاثیر لکھتے ہیں کہ :۔میں نے اس لغت کا بہت سرسری مطالعہ کیا ہے۔ادھر اُدھر سے دیکھا ہے۔لیکن جہاں کہیں نظر پڑی ہے بے احتیاطی اور کم نظری کا ثبوت ملا ہے۔حیدر آباد کے اتنے بڑے ادارے سے یہ غیر متوقع تھا۔اردو میں ایسی تالیفات روز روز شائع نہیں ہو سکتیں اور لغت میں جو غلطیاں رہ جائین ان کا اثر بہت دور رس ہوتا ہے۔میں نے محض اس لئے ان اغلاط کی طرف اہل علم کی توجہ دلائی ہے۔شاید کوئی تلافی کی صورت نکل آئے۔یقینی طور پر تو نہیں کہا جا سکتا۔لیکن قیاس ہے کہ شاید ہی کوئی صفحہ ہو جس میں اس قسم کی لغزشیں نہ ہوں۔یہ استقرائی قیاس ہے جو اس بناء پر قائم کیا گیا ہے کہ میں نے جو صفحہ بھی دیکھا اس میں غلطیاں پائی ہیں اور یہ ورق گردانی بے قاعدہ طور پر کی گئی۔غلطیاں پکڑنے کی نیت سے نہیں۔اس لئے خیال ہے کہ باقی صفحات کا بھی یہی حال ہو گا۔مولوی عبد الحق صاحب نے اپنے دیباچے میں یہ تو غالباً سچ کہا کہ ایسی جامع لغت ہندی وغیرہ میں نہیں لیکن ان کا یہ ارشاد کہ بعض بعض جگہ خامیاں رہ گئی ہیں۔مگر وہ ایسی خفیف ہیں کہ پڑھنے والے کو فوراً معلوم ہو جائیں بحث طلب ہے۔یہ خامیاں ہی نہیں ” بعض بعض جگہ اور ایسی خفیف بھی نہیں۔میں مولوی عبد الحق صاحب کا بڑا مداح ہوں لیکن یہ لغت کا کام ایسا نہیں کہ اس میں شخصیت پر ستی روار کھی جائے۔میری رائے میں اور اس سے میری ارادت ظاہر ہوتی ہے ) یہ لغت انجمن ترقی اردو کی شان کے شایان نہیں یہ کسی تجارتی ادارہ کا کام ہوتا تو مجھے اتنی مایوس نہ ہوتی۔" 16 قطع نظر انگریزی لغت کے اس تبصرہ کے مولوی عبدالحق صاحب نے اپنے رفقاء کار کو بھی اپنی ذاتی انا کو تسکین دینے کے لئے نہیں بخشا کرتے تھے۔اختر حسین رائے پوری کی بیگم محترمہ حمیدہ اختر رائے پوری اپنی یادداشتوں میں لکھتی ہیں “ ایک دن ڈاک کے خطوں کے ساتھ ایک موٹی سی پارسل بھی تھی۔سمجھ گئی ضرور یہ “ اردو انگریزی ڈکشنری ”جو انجمن ترقی اُردو نے تیار کی ہے وہ ہے۔اختر نے بڑی خوشی خوشی شوق کے ساتھ کھولی اور پیش لفظ پڑھنے لگے۔میں بھی گر سی سے اٹھ کر ان کی پشت پر کھڑی ہو گئی اور پیش لفظ خو د بھی جھک کر پڑھنے لگی۔مولوی صاحب نے ہر اس شخص کا جس نے کسی بھی حیثیت سے کام کیا تھا بڑی فراخدلی سے ذکر فرمایا۔سوائے ایک اختر کے۔جس نے تن من لگا کر رات دن ایک کر کے ہر ہر لفظ کی چھان پھٹک کی تھی۔میں نے دیکھا پہلے اختر نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بڑی مضبوطی سے ڈکشنری کو دونوں طرف سے دبا کر پکڑے رکھا۔پھر جیسے ان کے ہاتھ کانپ سے گئے۔گرفت ڈھیلی پڑی اور ڈکشنری ان کے قدموں کے قریب جاگری۔میں گھبرا کے سامنے کے رُخ آکھڑی ہوئی چہرہ زرد ہونٹ بھینچے ہوئے، منہ سے ایک لفظ نہ بولے، مگر ان کے صدمے کی پوری کیفیت مجھ پر عیاں ہو رہی تھی میری اپنی خود عجیب حالت تھی یقین نہیں آتا تھا کہ ہمارے اپنے مولوی صاحب جیسے عظیم اور شفیق انسان کے قلم نے یہ ظلم کیسے کیا اور کیوں کیا؟ " 17 یہی یادداشت بعد میں مکتبہ دانیال وکٹوریہ چیمبرز