براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 2 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 2

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 2 لکھا آدمی جو مذ ہبی مذاق رکھتا ہو اس سے بے خبر نہیں۔براہین احمدیہ تمام ملک بلکہ بلاد عرب اور فارس تک شائع ہو چکی ہے۔4 ہنوز حضرت مرزا صاب اپنی عمر کے پہلے حصہ میں تحصیل علم میں مشغول تھے یا ابھی تعلیمی سلسلہ سے تازہ ہی فارغ ہوئے تھے اور یہ بٹالہ یا سیالکوٹ کا ذکر ہے جو 1864ء یا 1865ء کا زمانہ تھا۔جب آپ نے حضرت خاتم الانبیاء صلی نیلم کو خواب میں بڑے جاہ و جلال اور حاکمانہ شان سے ایک زبر دست پہلوان کی طرح گرسی پر جلوس فرما دیکھا۔اس وقت حضرت مرزا صاحب کے ہاتھ میں ایک اپنی کتاب تھی جو خود آپ کی تالیف معلوم ہوتی تھی۔آنحضرت صلی اللہ نام کے پوچھنے پر کہ تو نے اس کا کیا نام رکھا ہے تو حضرت مرزا صاحب نے عرض کیا کہ اس کا نام میں نے قطبی رکھا ہے”۔یہ بشارت ان ایام اور ان حالات میں دی گئی جب کہ کسی کتاب کی تالیف و تصنیف کا وہم و گمان بھی نہیں تھا۔2 اس خواب کا تفصیلی تذکرہ آگے آئے گا لیکن یہاں حضرت مرزا صاحب کے والد حضرت مرزا غلام مر تضی صاحب کی ایک رویاء کو درج کیا جاتا ہے جو حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے متعلق ہے:۔جناب شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اسی رویاء کے متعلق لکھتے ہیں:۔۔۔۔۔ناظرین کو اس رویاء کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں جو حضرت مرزا غلام مر تضی صاحب آپ کے والد ماجد نے دیکھی تھی۔کہ آنحضرت صلی اللہ ہم آپ کے مکان کی طرف بڑی شان سے آرہے ہیں۔یہ گویا آنحضرت صلی اللہ علم کی بعثت ثانیہ کا نقشہ تھا۔جو انہیں دکھایا گیا۔"8 حضرت مرزا صاحب کی ایک رویا بھی اس کی تصدیق کرتی ہے:۔تھوڑے دن گزرے ہیں کہ ایک مدقوق اور قریب الموت انسان مجھے دکھائی دیا۔اور اس نے ظاہر کیا کہ میر انام دین محمد ہے اور میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ یہ دین محمد ہے۔جو مجسم ہو کر نظر آیا ہے۔اور میں نے اس کو تسلی دی کہ تو میرے ہاتھ سے شفا پائے گا۔2 1857ء کے غدر کے زمانے کے قریب حضرت مرزا صاحب کو بٹالہ میں تعلیم کے لئے بھیجا گیا۔آپ کے ہم مکتبوں میں مولوی محمد حسین بٹالوی اور لالہ بھیم سین بھی وہیں آپ کے ساتھ پڑھتے تھے۔آپ ہمیشہ خلوت کو پسند کرتے اور اپنی تعلیم میں مصروف رہتے تھے اور فارغ اوقات میں ان کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے جو مخالفین اسلام نے لکھی ہیں یا ان کے جواب میں مسلمانوں نے تحریر کی ہیں۔اس عمر میں آپ تہجد اور نوافل پڑھنے کے با قاعدہ عادی تھے اور دعاؤں میں مصروف رہتے تھے۔آپ کا قیام اپنی حویلی میں ہوا کرتا تھا جو ایک بڑا عالی شان مکان تھا۔آپ کی فطرت میں اعلائے کلمۃ الاسلام کا جوش و دیعت کیا گیا تھا۔آپ کی رات اگر دعاؤں اور عبادت میں گزرتی تھی تو دن اسی غور و فکر میں گزرتا تھا کہ اسلام کو دوسرے ادیان پر غالب کر کے دکھایا جاوے اور اس مقصد کے لئے آپ دوسرے مذاہب کی کتابوں کو اور اسلام پر کئے گئے اعتراضات کو ہمیشہ پڑھتے رہتے تھے۔نہ صرف پڑھتے رہتے بلکہ آپ نے ان کو جمع بھی کیا تھا۔مگر وہ مجموعہ طاعون کے ایام میں جل گیا۔اگر چہ اکثر بڑے بڑے اعتراضات کے جوابات آپ کی تصانیف میں آگئے ہیں۔آپ نے ایک جگہ رقم فرمایا کہ ان کی تعداد تین ہزار کے قریب پہنچی ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ گواہ ہے کہ ایک طرفۃ العین کے لئے بھی ان اعتراضوں نے آپ کے دل کو مذبذب یا متاثر نہیں کیا۔آپ جوں جوں ان اعتراضوں کو پڑھتے جاتے اسی قدر ان اعتراضوں کی ذلت آپ کے دل میں سماتی جاتی تھی۔