براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 3
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام اور رسول اللہ صلی اللی علم کی عظمت اور محبت سے دل عطر کے شیشہ کی طرح نظر آتا۔الله سة آپ نے یہ بھی غور کیا ہے کہ رسول اللہ صلی علیم کے جس پاک فعل یا قرآن شریف کی جس آیت پر مخالفوں نے اعتراض کیا ہے۔وہاں ہی حقائق اور حکمت کا ایک خزانہ نظر آیا ہے۔جو کہ ان بد باطن اور خبیث طینت مخالفون کو عیب نظر آیا ہے۔آپ کے صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کا بیان ہے کہ :۔عیسائی مذہب کے خلاف حضرت (مرزا صاحب) کو اس قدر جوش تھا کہ اگر ساری دنیا کا جوش ایک پلڑے میں اور حضرت کا جوش ایک پلڑے میں ہو تو آپ کا پلڑابھاری ہو گا۔” عیسائیوں کے ساتھ مذہبی بات چیت کا سلسلہ تو ان ایام میں شروع ہوا جب آپ سیالکوٹ میں مقیم تھے۔لیکن جب وہاں سے واپس تشریف لائے اور قادیان مقیم ہوئے تو علی العموم بٹالہ جانے کا اتفاق ہو تا تھا۔اور وہاں عیسائی مشن قائم ہو چکا تھا۔اندر ہی اندر بعض مسلمانوں میں ارتداد کا سلسلہ بھی جاری ہو چکا تھا۔حضرت صاحب کے پاس مرزا پور کی چھپی ہوئی بائبل تھی اور آپ نے اس کو کئی مرتبہ پڑھا تھا۔بعض اوقات خود بائبل پر نشان کرتے تھے۔عیسائیوں کے پرچہ نور افشاں کو آپ باقاعدہ منگواتے اور اس میں کئے گئے اعتراضات کے جوابات کبھی اپنے نام سے اور کبھی دوسروں سے بھی لکھوا دیتے تھے۔اس غرض کے لئے آپ کبھی شیخ رحیم بخش صاحب والد مولوی محمد حسین بٹالوی کے نام سے بھی چھپوا دیتے تھے۔منشی نبی بخش پٹواری کو عیسائیوں کے اعتراضات کے جوابات سکھاتے جو بٹالہ میں پادریوں سے مباحثات کرتے جن میں پادری صاحبان نہایت خفیف ہوتے تھے۔قادیان میں بعض عیسائی مشنری پادری بیٹ مین وغیرہ آجایا کرتے تھے۔مگر ان میں سے کبھی کوئی حضرت مرزا صاحب سے مذہبی گفتگو نہیں کرتا تھا۔بلکہ بازار میں وعظ وغیرہ کہہ کر اور آپ سے ملاقات کر کے واپس چلے جاتے تھے۔حضرت مرزا صاحب کی توجہ براہین احمدیہ کے کام کے آغاز کے قریب قریب آریہ سماج اور بر امھ سماج کی طرف بے حد تھی۔اور آپ اس فتنہ کی سختی کو خصوصیت سے محسوس کر رہے تھے۔اس کے کئی اسباب تھے۔ایک یہ کہ تعلیم یافتہ طبقہ کو ان جدید خیالات کی طرف زور سے توجہ ہو رہی تھی۔بنگال میں بر محو ازم ترقی کر رہا تھا اور بمبئی کی طرف آریہ سماج بڑھ رہا تھا۔اور اب یہ تحریکیں بنگال اور بمبئی سے نکل کر پنجاب میں آچکی تھیں اور زور و شور سے اس کا اثر پھیل رہا تھا۔دوسری وجہ یہ تھی کہ سب سے ضروری اور اصل چیز مذہب میں خدا کی وحی اور سلسلہ نبوت ہے۔اور اس کے خلاف بر امھ سماج نے خطرناک حملہ کیا تھا۔اور آریہ سماج بھی اس کا موید تھا۔عیسائی وحی اور نبوت کے قائل تو تھے۔اس لئے آپ نے آریہ سماج اور بر امھ سماج پر پوری قوت اور طاقت سے نہ صرف منقولی رنگ میں حملہ کیا بلکہ آپ نے حالی رنگ پید اکر کے اس فتنہ کا مقابلہ کیا۔چونکہ اسلام پر ان لوگوں کا طریق عیسائیوں کے مقابلہ میں جدا گانہ تھا۔آپ نے آریہ سماج اور بر امھ سماج کے لیڈروں اور بانیوں کو مقابلہ کے لئے بلایا۔خود آریہ سماج کے بانی اور اس کے دست و بازو سر گرم لیڈر ان پر اتمام حجت کیا اور اب وقت آگیا تھا کہ آپ دنیا میں خدا کی قدرت اول کا مظہر ہوں اور منہاج نبوۃ پر اتمام حجت کریں۔اس کا ظہور براہین احمدیہ کی تصنیف سے ہوتا ہے۔کیونکہ پنڈت دیانند نے سر نکالتے ہیں اسلام پر زبان کھولی اور اپنی کتاب ستیار تھے پر کاش میں آنحضرت صلی ایم کی بہت بے ادبی کی اور قرآن شریف کا بہت توہین کے ساتھ ذکر کیا۔” 10 علاوہ ازیں ملاحظہ ہو را قم الحروف کا مضمون براہین احمدیہ اور پنڈت دیانند سرسوتی ” مطبوعہ ماہنامہ “ انصار اللہ ربوہ بر این احمد یہ نمبر دسمبر 1997ء وو