براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 1
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام باب اول: براہین احمدیہ اور مصنف براہین احمدیہ تعارف و مشاہدات 1 ریاست حیدر آباد دکن میں لفظ مولوی گزیٹڈ آفیسر کے لیے استعمال ہوتا تھا۔اور مقدمہ سے مراد کوئی عدالتی مقدمہ نہیں بلکہ کسی متن یا تصنیف یا تالیف (یا کتاب) کے موضوع، نفس مضمون اور اس کے متعلقہ پہلوؤں کا تعارف ، نوعیت، تحقیق تنقید ، پس منظر ، جواز وغیرہ پر مشتمل تحریر جو مصنف یا مولف یا مرتب یا مدبرون (بمعنی : مدون: تدوین کرنے والا۔ناقل ) تحریر کے آغاز میں شامل کرے۔” 1 ہمارے پیش نظر ایک ایسے ہی مولوی صاحب کے لکھے ہوئے ایک مقدمے میں براہین احمدیہ کے ذکر سے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی براہین احمدیہ میں اس لفظ کو استعمال فرمایا ہے آپ فرماتے ہیں: یہ کتاب مرتب ہے ایک اشتہار اور ایک مقدمہ اور چار فصل اور ایک خا تمہ پر 2 دو 1-1۔براہین احمدیہ اور مصنف براہین احمدیہ کا تعارف براہین احمدیہ ، حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی (1908-1835ء) کی پہلی تصنیف ہے۔جس کا پورا نام “ براہین احمدیہ ملقب به البراهين الاحمدیہ علی حقیت کتاب اللہ القرآن والنبوۃ المحمدیہ ” ہے۔اس کتاب کو حضرت مرزا صاحب نے ملہم اور مامور ہو کر۔۔۔۔تالیف کیا تھا۔اس تالیف کی غرض “ اصلاح و تجدید دین ” تھی۔آپ کی ماموریت مسجد دوقت۔۔۔روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح بن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں۔۔۔”اگرچہ اس ماموریت اور مشابہت میں المسیح الموعود اور الامام المہدی ہو نا مضمر تھا لیکن ان امور کا آپ پر تدریجاً انکشاف ہوا۔اس ماموریت کی بشارت کو آپ کے سوانح نگار بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔یکا یک آپ پر ایک قسم کی ربودگی اور غنودگی طاری ہوئی ( یہ بڑی مسجد کا واقعہ ہے ) تھوڑی دیر کے بعد یہ حالت جاتی رہی۔تو آپ الحمد للہ کہہ کر ہوش میں آئے اور کہا کہ مجھ پر ظاہر ہوا ہے کہ ایک باغ لگایا جارہا ہے اور میں اس کا مالی مقرر کیا گیا ہوں۔"3 حضرت مرزا صاحب نے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا۔جس میں بیان فرمایا کہ آپ کی اصلاح و تجدید دین کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ : دنیا میں منجانب اللہ اور سچا مذ ہب جس کے ذریعے سے انسان خد اتعالیٰ کو ہر ایک عیب اور نقص سے بری سمجھ کر اس کی تمام پاک اور کامل صفتوں پر دلی یقین سے ایمان لاتا ہے وہ فقط اسلام ہے جس میں سچائی کی برکتیں آفتاب کی طرح چمک رہی ہیں اور صداقت کی روشنی دن کی طرح ظاہر ہو رہی ہے اور دوسرے تمام مذہب ایسے بدیہی البطلان ہیں کہ نہ عقلی تحقیقات سے اُن کے اصول صحیح اور درست ثابت ہوتے ہیں اور نہ ان پر چلنے سے ایک ذرہ روحانی برکت و قبولیت الہی مل سکتی ہے بلکہ ان کی پابندی سے انسان نہایت درجہ کا کور باطن اور سیہ دل ہو جاتا ہے جس کی شقاوت پر اسی جہان میں نشانیاں پید اہو جاتی ہیں۔14 براہین احمدیہ ایسی کتاب ہے جس کو دوست دشمن سب نے پڑھا۔اس کا نسخہ مکہ ، مدینہ ، بخارا تک پہنچا۔گورنمنٹ کے پاس اس کی کاپی بھیجی گئی۔ہندوؤں، مسلمانوں، عیسائیوں، برہمنوں نے اسے پڑھا اور وہ کوئی گمنام کتاب نہیں بلکہ وہ شہرت یافتہ کتاب ہے۔کوئی پڑھا