براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 128
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 128 ارادے ہوتے ہیں تو ہو ا کریں ایک دوسرے پادری کا جواب ہے اور اُن کی انگریزی کتاب ہے تو اُن کے انگریز ساتھیوں میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھی جائے گی اُس کا حوالہ کیوں نہ دیا جائے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ خواہ اس سے قرآن شریف کی ہتک ہی کیوں نہ ہو۔اُن کا مطلب تو نکلتا ہے۔اور اس پر مترجم مولوی چراغ علی، مولوی عبد الحق ٹس سے مس نہیں ہوتے بلکہ مولوی چراغ علی کی اس جسارت پر حاشیہ آرائی کرتے ہوئے تعریف کے ڈونگرے برساتے ہیں اور لکھتے ہیں:۔ان کی کتابیں (یعنی مولوی چراغ علی کی کتابیں ) معلومات علمی سے لبریز ہیں۔واقعات کی تنقید و تنقیح، صحیح نتائج کے استخراج میں انہیں کمال حاصل ہے۔وہ کبھی اپنی بحث سے الگ نہیں ہوتے ، کبھی کوئی غیر متعلق بات نہیں کہتے اور نہ کبھی الزامی جواب دیتے ہیں۔بلکہ امر زیر بحث کو ہمیشہ مد نظر رکھتے اور اس کے مالہ وماعلیہ پر ایک وسیع نظر ڈالتے ہیں۔تمام واقعات متعلقہ کو جمع کر کے اُن کی تنقید کرتے اور حتی الامکان قرآن مجید سے استدلال کرتے اور نہایت صحیح اور عجیب نتائج استنباط کرتے ہیں اور اس ضمن میں وہ بڑے بڑے مستند لوگوں کی رایوں کو پیش کرتے ہیں یا ان کی غلطیوں پر نظر ڈالتے جاتے ہیں۔"35 چلیں ہم مان لیتے ہیں کہ مولوی چراغ علی صاحب نے زیر بحث معاملہ میں ایک رائے پیش کی ہے۔اسے مولوی عبد الحق از خود مستند بناتے پھرتے ہیں اور پھر اس“ استناد ” کے پر دے میں قرآن شریف پر حملے ہو رہے ہیں تو بھاڑ میں جائے اس مجہول الکنہ پادری کالا یعنی استناد۔مولوی عبد الحق تو کہتے ہیں مولوی چراغ علی صاحب قرآن مجید سے استدلال کرتے ہیں۔”کہاں ہے قرآن مجید سے استناد ؟ جن سے مولوی چراغ علی نے قرآن مجید کے احکام کو صرف حروف واحد ، الفاظ اور ادھورے فقرے بنا دیا ہے جن سے خلاف قیاس نتائج پیدا کئے گئے ہیں جن کی کوئی صحیح قانونی تعبیر جائز نہیں۔چراغ علی کے بقول دوسو آیات قرآنی سول لا کے متعلق کوئی خاص تعلیم یا محکم قواعد نہیں ہیں اور ان میں سے بہت سے نتائج انہیں انکل کچھ معلوم ہوتے ہیں؟ لیکن تعلیقات ” میں چراغ علی صاحب کا اس کے بر عکس رویہ ہے جسے اوپر درج کیا گیا ہے۔یہ صورت حال مولوی چراغ علی کی حقیت قرآن سے محض لاعلمی ہے لیکن دعوئی دفاع اسلام کا ہے گویا یہ اسلام کے نادان دوست بلکہ دین اسلام کے در پر دہ دشمن ہیں۔مولوی چراغ علی تو قرآن شریف کے اختصار پر فی الواقعہ اعتراض کر رہے ہیں نہ کہ قرآن شریف کا دفاع کرتے ہیں۔اب ذرا اس مضمون کے شروع میں دیئے گئے حضرت مرزا صاحب کے براہین احمدیہ میں سے لیے گئے اقتباس کو ملاحظہ کریں جس میں قرآن شریف کے اس اختصار کا ذکر ہے اور اس اختصار میں کیا حکمتیں مضمر ہیں کے چند نکات کو یہاں دوبارہ پیش کیا جاتا ہے۔ایجاز قرآن شریف اور حضرت مرزا صاحب ایجاز کلام ( قرآن شریف) کو اگر متوسط قلم سے لکھیں تو پانچ چار جز میں آسکتا ہے۔• • تمام دینی صداقتوں پر سچی کتابوں (وغیرہ) میں تھیں پر مشتمل ہے۔اس میں یہ کمال ہے کہ جس قدر انسان کوئی بار یک دقیقہ اپنی قوت عقلیہ پیدا کرے یا حکماء سابقین نے نکالا ہو اُسے معرض مقابلہ میں لائے۔تمام مفاسد باطنی اور امراض روحانی کا علاج اور ہر دینی صداقت اور حکمت کے بیان میں قرآن شریف ایک دائرہ کی طرح محیط