براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 116
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام بالا تر دیکھا اور پہلی کتابوں میں اس آخری نبی کے آنے کے لئے خود بشارتیں پڑھتے تھے سو خدا نے ان کے سینوں کو ایمان لانے کے لئے کھول دیا۔اور ایسے ایماندار نکلے جو خدا کی راہ میں اپنے خونوں کو بہایا اور جو لوگ عیسائیوں اور یہودیوں اور عربوں میں سے نہایت درجہ کے جاہل اور شریر اور بد باطن تھے ان کے حالات پر بھی نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی یہ یقین کامل آنحضرت کو امی جانتے تھے "12 116 اس تمہید کی عبارتوں کو اگر تمہید دوم کے ساتھ ملایا جائے تو آنحضرت صلی علیم کی اہمیت ایک اور شان کے ساتھ اجاگر ہوتی ہے۔آپ فرماتے ہیں: امور غیبیہ سے وہ اُمور مراد ہیں جو ایک ایسے شخص کی زبان سے نکلیں جس کی نسبت یہ یقین کیا جائے کہ ان امور کا بیان کرنا من کل الوجوہ اس کی طاقت سے باہر ہے یعنی ان امور پر نظر کرنے اور اس شخص کے حال پر نظر کرنے سے یہ بات بہ بداہت واضح ہو کہ نہ وہ امور اس کے لئے حکم بدیہی اور مشہودہ کارکھتے ہیں اور نہ بذریعہ نظر اور فکر کے اس کو حاصل ہو سکتے ہیں اور نہ اس کی نسبت عند العقل یہ گمان جائز ہے کہ اس نے بذریعہ کسی دوسرے واقف کار کے ان امور کو حاصل کر لیا ہو گا۔گو وہی امور کسی دوسرے شخص کی طاقت سے باہر نہ ہوں یعنے ایسے امور ہیں کہ جب بعض خاص اشخاص کی طرف ان کو نسبت دی جاتی ہے تو اس قابل ہو جاتے ہیں کہ امور غیبیہ ہونے کا ان پر اطلاق ہو۔اور پھر جب وہی امور بعض دیگر کی طرف منسوب کئے جائیں تو یہ قابلیت ان میں متحقق نہیں ہوتی۔" اس تمہید کے آخر پر حضرت مرزا صاحب تحریر فرماتے ہیں: “ اگر کسی قوم کی یہ رائے ہو کہ ان کی الہامی کتابوں میں بار یک صداقتیں بھی ہیں جن پر احاطہ کرنا بجز ان اعلیٰ درجے کے اہل علم لوگوں کے جن کی عمریں انہیں میں تدبر تفکر کرتے کرتے فرسودہ ہو گئی ہیں اور جن میں ایسی صداقتیں بھی ہیں جن کی تہ اور مغز تک وہی لوگ پہنچتے ہیں جو نہایت درجہ کے زیرک اور عمیق الفکر اور راسخ فی العلم ہیں تو اس جواب سے خود ہمارا مطلب ثابت ہے۔کیونکہ اگر ایک اُمّی اور ناخواندہ آدمی ان حقائق دقیقہ کو اُن کی کتابوں میں سے بیان کرے جن کو با قرار ان کے عوام اہل علم بھی بیان نہیں کر سکتے۔صرف خواص کا کام ہے۔تو بلا شبہ بیان اس اُقی کا بعد ثبوت اس بات کے کہ وہ آتی ہے امور غیبیہ میں داخل ہو گا۔اور۔۔اُمور غیبیہ کو منجانب اللہ ہونے پر دلالت کامل ہے۔کیونکہ یہ بات بہ بداہت عقل ثابت ہے کہ غیب کا دریافت اور 13", کرنا مخلوق کی طاقتوں سے باہر ہے۔اور جو امر مخلوق کی طاقتوں سے باہر ہو وہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔3 خدا کی طرف سے ہونا حضرت محمد مصطفی صلی للی نام کی اثبات نبوت پر دلیل کامل ہے۔فھو المراد۔قارئین کرام ! ذرا ملاحظہ کریں مولوی عبد الحق صاحب کے براہین احمدیہ کے بارے میں الزام کو اور خو د مولوی چراغ علی کی خاموشی کو ! اگر چه مولوی چراغ علی صاحب نے کہیں اور بھی اس بارے میں لکھا ہے تو وہ انبیاء کے بارے میں یہی کچھ ہے۔فی الحقیقت اعتراضات کے بارے میں حضرت مرزا صاحب کا حاصل مطالعہ یہ ہے کہ : جس امر کو مخالف ناقص الفہم نے جائے اعتراض سمجھا ہے وہ حقیقت میں ایک ایسا امر ہے کہ جس سے تعلیم