براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 117
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق (بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام قرآنی کی دوسری کتابوں پر فضیلت اور ترجیح ثابت ہوتی ہے نہ کہ جائے اعتراض اور پھر وہ فضیلت بھی ایسی دلائل 117 واضح سے ثابت کی گئی ہے کہ جس سے معترض خود معترض الیہ ٹھہر گیا ہے۔"14 مولوی چراغ علی اور مولوی عبد الحق تو پادری میلکم میکال کا یہ اعتراض کہ اسلام نے “ انسانی عقل کو چھٹی صدی کے ایک نا قابل و نا تربیت یافتہ بدو کے علم کے تنگ دائرہ میں محدود کر دیا ہے ) نقل کر کے گنگ ہو گئے ہیں۔لیکن حضرت مرزا صاحب اپنی اسی کتاب میں آنحضرت صلی علیم کے اُمی ہونے کے بارے میں اور خدا تعالیٰ کے مقاصد عالیہ کے متعلق تحریر فرماتے ہیں جن سے نہ صرف اثبات نبوت محمد یہ ہوتی ہے بلکہ اس اعتراض کا کامل جواب بھی ملتا ہے۔جسے براہین احمدیہ کے وسیع جواب میں سے مشتے نمونہ از خروارے نقل کیا گیا ہے۔جیسے فرمایا: “ وہ ( یعنی آنحضرت صلی ا لم ) کس مکتب میں پڑھے تھے اور کس سکول کا پاس حاصل کیا تھا اور کب انہوں نے عیسائیوں اور یہودیوں اور آریہ لوگوں وغیرہ دنیا کے فرقوں کی مقدس کتابیں مطالعہ کی تھیں۔پس اگر قرآن شریف کا نازل کرنے والا خدا نہیں ہے تو کیونکر اس میں تمام دنیا کے علوم حقہ الہیہ لکھے گئے اور وہ تمام ادلہ کاملہ علم الہیات کی کہ جن کے باستیفا اور بصحت لکھنے سے سارے منطقی اور معقولی اور فلسفی عاجز رہے اور ہمیشہ غلطیوں میں ہی ڈوبتے ڈوبتے مر گئے۔وہ کس فلاسفر بے مثل و مانند نے قرآن شریف میں درج کر دیں اور کیونکر وہ اعلیٰ درجہ کی مدلل تقریریں کہ جن کی پاک اور روشن دلائل کو دیکھ کر مغرور حکیم یونان اور ہند کے اگر کچھ شرم ہو تو جیتے جی ہی مر جائیں ایک غریب اُمّی کے ہونٹوں سے نکلیں اس قدر دلائل صدق کی پہلے نبیوں میں کہاں موجود ہیں۔آج دنیا میں وہ کون سی کتاب ہے جو ان سب باتوں میں قرآن شریف کا مقابلہ کر سکتی ہے کسی نبی پر وہ سب واقعات جو ہم نے بیان کئے مثل آں حضرت کے گزرے۔15 حضرت مرزا صاحب ایک اور مقام پر براہین احمدیہ میں تحریر فرماتے ہیں: “ دیکھو ایک غریب اور تنہا اور مسکین نے اپنے دین کے پھیلنے کے اور اپنے مذہب کی جڑھ پکڑنے کی اس وقت خبر دی کہ جب اُس کے پاس بجز چند بے سامان درویشوں کے اور کچھ نہ تھا اور تمام مسلمان صرف اس قدر تھے کہ ایک چھوٹے سے حجرہ میں سما سکتے تھے اور انگلیوں پر نام بنام گنے جاسکتے جن کو ایک گاؤں کے چند آدمی ہلاک کر سکتے تھے۔جن کا مقابلہ اُن لوگوں سے پڑا تھا کہ جو دنیا کے بادشاہ اور حکمران تھے اور جن کو اُن قوموں کے ساتھ سامنا پیش آیا تھا کہ جو باوجود کروڑوں مخلوقات ہونے کے اُن کے ہلاک کرنے اور نیست و نابود کرنے پر متفق تھے۔مگر اب دنیا کے کناروں تک نظر ڈال کے دیکھو کہ کیونکر خدا نے انہیں ناتوان اور قدر قلیل لوگوں کو دنیا میں پھیلا دیا۔اور کیونکر اُن کو طاقت اور دولت اور بادشاہت بخش دی اور کیونکر ہزار ہا سال کی تخت نشینیوں کے تاج اور تخت اُن کے سپر د کئے گئے۔ایک دن وہ تھا کہ وہ جماعت اتنی بھی نہیں تھی کہ جس قدر ایک گھر کے آدمی ہوتے ہیں اور اب وہی لوگ کئی کروڑ دنیا میں نظر آتے ہیں۔" 16 64۔اور اگر آنحضرت اُمّی نہ ہوتے " حضرت مرزا صاحب بر این احمدیہ میں تحریر فرماتے ہیں: